تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ يوسف (12) — آیت 15

فَلَمَّا ذَہَبُوۡا بِہٖ وَ اَجۡمَعُوۡۤا اَنۡ یَّجۡعَلُوۡہُ فِیۡ غَیٰبَتِ الۡجُبِّ ۚ وَ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلَیۡہِ لَتُنَبِّئَنَّہُمۡ بِاَمۡرِہِمۡ ہٰذَا وَ ہُمۡ لَا یَشۡعُرُوۡنَ ﴿۱۵﴾
پھر جب وہ اسے لے گئے اور انھوں نے طے کرلیا کہ اسے ایک اندھے کنویں کی گہرائی میں ڈال دیں اور ہم نے اس کی طرف وحی کی کہ تو ضرور ہی انھیں ان کے اس کام کی خبر دے گا، اس حال میں کہ وہ سوچتے نہ ہوں گے۔ En
غرض جب وہ اس کو لے گئے اور اس بات پر اتفاق کرلیا کہ اس کو گہرے کنویں میں ڈال دیں۔ تو ہم نے یوسف کی طرف وحی بھیجی کہ (ایک وقت ایسا آئے گا کہ) تم ان کے اس سلوک سے آگاہ کرو گے اور ان کو (اس وحی کی) کچھ خبر نہ ہوگی
En
پھر جب اسے لے چلے اور سب نے مل کر ٹھان لیا کہ اسے غیر آباد گہرے کنوئیں کی تہ میں پھینک دیں، ہم نے یوسف (علیہ السلام) کی طرف وحی کی کہ یقیناً (وقت آرہا ہے کہ) تو انہیں اس ماجرا کی خبر اس حال میں دے گا کہ وه جانتے ہی نہ ہوں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی جب وہ باپ کی اجازت کے بعد یوسف علیہ السلام کو ساتھ لے گئے اور انھوں نے اپنے میں سے ایک کی رائے کے مطابق، جس کا ذکر پیچھے گزر چکا ہے، یوسف علیہ السلام کو اندھے کنویں میں پھینکنے کا عزم کرلیا اور اب وہ اپنے فیصلے پر عمل کرنے کی قدرت رکھتے تھے چنانچہ انھوں نے اپنے فیصلے پر عمل کرتے ہوئے یوسف علیہ السلام کو اندھے کنویں میں پھینک دیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جناب یوسف علیہ السلام کو… جو کہ اس وقت سخت خوف کی حالت میں تھے… اپنے لطف و کرم سے نوازتے ہوئے، ان کی طرف وحی کی ﴿ لَتُنَبِّئَنَّهُمْ بِاَمْرِهِمْ هٰؔذَا وَهُمْ لَا یَشْ٘عُرُوْنَ کہ تو جتائے گا ان کو ان کا یہ کام اور وہ تجھ کو نہ جانیں گے یعنی آپ عنقریب اس معاملے میں ان پر عتاب کریں گے اور ان کو اس بارے میں آگاہ کریں گے اور انھیں اس معاملے کا شعور تک نہ ہوگا۔ اس میں جناب یوسف علیہ السلام کے لیے بشارت تھی کہ وہ اس مصیبت سے ضرور نجات پائیں گے۔ اللہ تعالیٰ اس حالت میں ان کو اپنے گھر والوں کے ساتھ اکٹھا کرے گا کہ عزت اور ملک کا اقتدار ان کے پاس ہوگا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: لما ذهب إخوةُ يوسف بيوسف بعدما أذن له أبوه، وعزموا أن يجعلوه في غيابة الجبِّ كما قال قائلُهم السابقُ ذكره، وكانوا قادرين على ما أجمعوا عليه، فنفذوا فيه قدرتهم، وألقوه في الجبِّ، ثم إن الله لطف به بأن أوحى إليه وهو بتلك الحال الحرجة: {لَتُنَبِّئَنَّهُم بأمرِهِم هذا وهم لا يشعُرونَ}؛ أي: سيكون منك معاتبة لهم وإخبارٌ عن أمرهم هذا وهم لا يشعرون بذلك الأمر. ففيه بشارة له بأنه سينجو مما وقع فيه، وأن الله سيجمعه بأهله وإخوته على وجه العزِّ والتمكين له في الأرض.