تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پھر اللہ تعالیٰ نے عام کا ذکر کرنے کے بعد خاص کا ذکر کیا، فرمایا:﴿ وَمِنْشَرِّغَاسِقٍاِذَاوَقَبَ﴾”اور شبِ تاریک کی برائی سے جب اس کا اندھیرا چھا جائے۔“ یعنی میں اس شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں جو رات کے اندر ہوتا ہے، جب وہ لوگوں پر چھا جاتا ہے اور اس میں بہت سی شریر ارواح اور موذی حیوانات پھیل جاتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم خصَّ بعدما عمَّ، فقال: {ومن شرِّ غاسقٍ إذا وَقَبَ}؛ أي: من شرِّ ما يكون في الليل حين يغشى النّاسَ، وتنتشر فيه كثيرٌ من الأرواح الشرِّيرة والحيوانات المؤذية.