تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الفلق (113) — آیت 1

قُلۡ اَعُوۡذُ بِرَبِّ الۡفَلَقِ ۙ﴿۱﴾
تو کہہ میں مخلوق کے رب کی پناہ پکڑتا ہوں۔ En
کہو کہ میں صبح کے پروردگار کی پناہ مانگتا ہوں
En
آپ کہہ دیجئے! کہ میں صبح کے رب کی پناه میں آتا ہوں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿قُلْ یعنی آپ اللہ کی پناہ مانگنے کے لیے کہیے: ﴿اَعُوْذُ میں پناہ ڈھونڈتا ہوں اور اپنا بچاؤ تلاش کرتا ہوں ﴿بِرَبِّ الْ٘فَلَقِ ربِ فلق کے ذریعے سے۔ یعنی جو دانے اور گٹھلی کو پھاڑتا ہے اور صبح کو نمودار کرتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: {قل}: متعوِّذاً: {أعوذُ}؛ أي: ألجأ وألوذُ وأعتصمُ، {بربِّ الفلق}؛ أي: فالق الحبِّ والنَّوى، وفالق الأصباح.