تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ هود (11) — آیت 97

اِلٰی فِرۡعَوۡنَ وَ مَلَا۠ئِہٖ فَاتَّبَعُوۡۤا اَمۡرَ فِرۡعَوۡنَ ۚ وَ مَاۤ اَمۡرُ فِرۡعَوۡنَ بِرَشِیۡدٍ ﴿۹۷﴾
فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف۔ تو انھوں نے فرعون کے حکم کی پیروی کی اور فرعون کا حکم ہرگز کسی طرح درست نہ تھا۔ En
(یعنی) فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف۔ تو وہ فرعون ہی کے حکم پر چلے۔ اور فرعون کا حکم درست نہیں تھا
En
فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف، پھر بھی ان لوگوں نے فرعون کے احکام کی پیروی کی اور فرعون کا کوئی حکم درست تھا ہی نہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَمَلَاۡىِٕهٖ فرعون اور اس کے اشرافیہ کی طرف کیونکہ اشراف متبوع اور دیگر لوگ ان کے تابع ہوتے ہیں۔ ان اشراف نے موسیٰ علیہ السلام کے ان معجزات کو نہ مانا جو جناب موسیٰ نے ان کو دکھائے تھے جیسا کہ بسط و تفصیل کے ساتھ ان کا ذکر سورۂ اعراف میں گزر چکا ہے۔ ﴿ فَاتَّبَعُوْۤا اَمْرَ فِرْعَوْنَ١ۚ وَمَاۤ اَمْرُ فِرْعَوْنَ بِرَشِیْدٍ پس وہ پیچھے لگے فرعون کے حکم کے اور فرعون کا حکم اچھا نہیں تھا بلکہ وہ بھٹکا ہوا اور گمراہ ہے۔ وہ جس چیز کا حکم دیتا ہے وہ ضرر محض کے سوا کچھ نہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{إلى فرعونَ وملئِهِ}؛ أي: أشراف قومه؛ لأنَّهم المتبوعون، وغيرهم تَبَع لهم، فلم ينقادوا لما مع موسى من الآيات التي أراهم إيَّاها كما تقدم بسطُها في سورة الأعراف، ولكنهم {اتَّبعوا أمرَ فرعون وما أمرُ فرعونَ برشيدٍ}: بل هو ضالٌّ غاوٍ لا يأمر إلا بما هو ضررٌ محضٌ.