تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ هود (11) — آیت 72

قَالَتۡ یٰوَیۡلَتٰۤیءَ اَلِدُ وَ اَنَا عَجُوۡزٌ وَّ ہٰذَا بَعۡلِیۡ شَیۡخًا ؕ اِنَّ ہٰذَا لَشَیۡءٌ عَجِیۡبٌ ﴿۷۲﴾
اس نے کہا ہائے میری بربادی! کیا میں جنوں گی، جب کہ میں بوڑھی ہوں اور یہ میرا خاوند ہے بوڑھا، یقینا یہ تو ایک عجیب چیز ہے. En
اس نے کہا اے ہے میرے بچہ ہوگا؟ میں تو بڑھیا ہوں اور میرے میاں بھی بوڑھے ہیں۔ یہ تو بڑی عجیب بات ہے
En
وه کہنے لگی ہائے میری کم بختی! میرے ہاں اوﻻد کیسے ہو سکتی ہے میں خود بڑھیا اور یہ میرے خاوند بھی بہت بڑی عمر کے ہیں یہ تو یقیناً بڑی عجیب بات ہے! En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اسے اس پر بھی تعجب ہوا۔ ﴿ قَالَتْ یٰوَیْلَتٰۤى ءَاَلِدُ وَاَنَا عَجُوْزٌ وَّ هٰؔذَا بَعْلِیْ شَیْخًا وہ بولیں، کیا میں جنوں گی جبکہ میں بڑھیا ہوں اور یہ میرا خاوند (بھی) بوڑھا ہے پس یہ دو امور وجود اولاد سے مانع ہیں ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَشَیْءٌ عَجِیْبٌ یہ تو بڑی ہی عجیب بات ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فتعجَّبت من ذلك و {قالتْ يا وَيْلتا أألِدُ وأنا عجوزٌ وهذا بعلي شيخاً}: فهذان مانعان من وجود الولد. {إنَّ هذا لشيءٌ عجيبٌ}.