تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ هود (11) — آیت 70

فَلَمَّا رَاٰۤ اَیۡدِیَہُمۡ لَا تَصِلُ اِلَیۡہِ نَکِرَہُمۡ وَ اَوۡجَسَ مِنۡہُمۡ خِیۡفَۃً ؕ قَالُوۡا لَا تَخَفۡ اِنَّاۤ اُرۡسِلۡنَاۤ اِلٰی قَوۡمِ لُوۡطٍ ﴿ؕ۷۰﴾
تو جب ان کے ہاتھوں کو دیکھا کہ اس کی طرف نہیں پہنچتے تو انھیں اوپرا جانا اور ان سے ایک قسم کا خوف محسوس کیا، انھوں نے کہا نہ ڈر! بے شک ہم لوط کی قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں۔ En
جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے کی طرف نہیں جاتے (یعنی وہ کھانا نہیں کھاتے) تو ان کو اجنبی سمجھ کر دل میں خوف کیا۔ (فرشتوں نے) کہا کہ خوف نہ کیجیے، ہم قوم لوط کی طرف (ان کے ہلاک کرنے کو) بھیجے گئے ہیں
En
اب جو دیکھا کہ ان کے تو ہاتھ بھی اس کی طرف نہیں پہنچ رہے تو ان سے اجنبیت محسوس کرکے دل ہی دل میں ان سے خوف کرنے لگے، انہوں نے کہا ڈرو نہیں ہم تو قوم لوط کی طرف بھیجے ہوئے آئے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿فَلَمَّا رَاٰۤ اَیْدِیَهُمْ لَا تَصِلُ اِلَیْهِ جب انھوں (ابراہیم علیہ السلام) نے دیکھا کہ ان کے ہاتھ اس (ضیافت) کی طرف نہیں بڑھتے ﴿نَؔكِرَهُمْ وَاَوْجَسَ مِنْهُمْ خِیْفَةً تو انھیں کھٹکا اور دل میں ان سے ڈرے ابراہیم علیہ السلام نے سمجھا کہ وہ کسی برے ارادے سے آئے ہیں۔ ابراہیم علیہ السلام کا یہ گمان اور اندازہ ان کی اصلیت معلوم ہونے سے پہلے تھا، ﴿قَالُوْا لَا تَخَفْ اِنَّاۤ اُرْسِلْنَاۤ اِلٰى قَوْمِ لُوْطٍ انھوں نے کہا، ڈریں نہیں، ہم قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کے قاصد اور فرشتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں لوط علیہ السلام کی قوم کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فلمَّا رأى أيديَهم لا تصلُ إليه}؛ أي: إلى تلك الضيافة، {نَكِرَهُم وأوجس منهم خِيفةً}: وظنَّ أنهم أتوه بشرٍّ ومَكْروه، وذلك قبلَ أن يعرِفَ أمرَهم، فقالوا: {لا تخفْ إنَّا أرْسِلْنا إلى قوم لوطٍ}؛ أي: إنَّا رسلُ الله، أرسلنا الله إلى إهلاك قوم لوطٍ.