فرمایا اے نوح! بے شک وہ تیرے گھر والوں سے نہیں، بے شک یہ ایسا کام ہے جو اچھا نہیں، پس مجھ سے اس بات کا سوال نہ کر جس کا تجھے کچھ علم نہیں،بے شک میں تجھے اس سے نصیحت کرتا ہوں کہ تو جاہلوں میں سے ہوجائے۔
En
خدا نے فرمایا کہ نوح وہ تیرے گھر والوں میں نہیں ہے وہ تو ناشائستہ افعال ہے تو جس چیز کی تم کو حقیقت معلوم نہیں ہے اس کے بارے میں مجھ سے سوال ہی نہ کرو۔ اور میں تم کو نصیحت کرتا ہوں کہ نادان نہ بنو
اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے نوح یقیناً وه تیرے گھرانے سے نہیں ہے، اس کے کام بالکل ہی ناشائستہ ہیں تجھے ہرگز وه چیز نہ مانگنی چاہئے جس کا تجھے مطلقاً علم نہ ہو میں تجھے نصیحت کرتا ہوں کہ تو جاہلوں میں سے اپنا شمار کرانے سے باز رہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے نوح علیہ السلام سے فرمایا: ﴿اِنَّهٗلَ٘یْسَمِنْاَهْلِكَ﴾”وہ تیرے گھر والوں میں سے نہیں ہے“ یعنی ان اہل خانہ میں سے، جن کی نجات کا میں نے وعدہ کیا تھا۔ ﴿ اِنَّهٗعَمَلٌغَیْرُصَالِحٍ﴾”بے شک اس کے عمل صحیح نہیں ہیں “ یعنی یہ دعا تو نے ایک ایسے کافر کی نجات کے لیے کی ہے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہیں رکھتا۔ ﴿ فَلَاتَ٘سْـئَلْ٘نِمَالَ٘یْسَلَكَبِهٖعِلْمٌ ﴾”پس جس کی بابت تجھے علم نہ ہو، اس کا مجھ سے سوال نہ کر“ یعنی جس کی عاقبت اور انجام کا تجھ کو علم نہیں کہ آیا اس کا انجام اچھا ہے یا برا۔ ﴿ اِنِّیْۤاَعِظُكَاَنْتَكُوْنَمِنَالْجٰؔهِلِیْ٘نَ﴾”میں تجھ کو نصیحت کرتا ہوں کہ نادان نہ بن۔“ یعنی میں تجھ کو ایسی نصیحت کرتا ہوں جس پر عمل کر کے تو کاملین میں شمار ہوگا اور جاہلین کی صفات سے نجات حاصل کرے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فقال اللهُ له: {إنَّه ليس من أهلك}: الذين وعدتُك بإنجائهم، {إنَّه عملٌ غيرُ صالح}؛ أي: هذا الدُّعاء الذي دعيتَ به لنجاة كافر لا يؤمنُ بالله ولا رسوله، {فلا تَسْألْنِ ما ليس لك به علمٌ}؛ أي: ما لا تعلم عاقبته ومآله، وهل يكون خيراً أو غير خير. {إني أعظُك أن تكونَ من الجاهلين}؛ أي: إني أعظُك وعظاً تكون به من الكاملين، وتنجو به من صفات الجاهلين.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔