تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ هود (11) — آیت 45

وَ نَادٰی نُوۡحٌ رَّبَّہٗ فَقَالَ رَبِّ اِنَّ ابۡنِیۡ مِنۡ اَہۡلِیۡ وَ اِنَّ وَعۡدَکَ الۡحَقُّ وَ اَنۡتَ اَحۡکَمُ الۡحٰکِمِیۡنَ ﴿۴۵﴾
اور نوح نے اپنے رب کو پکارا، پس کہا اے میرے رب! بے شک میرا بیٹا میرے گھر والوں سے ہے اور بے شک تیرا وعدہ سچا ہے اور تو سب فیصلہ کرنے والوں سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔ En
اور نوح نے اپنے پروردگار کو پکارا اور کہا کہ پروردگار میرا بیٹا بھی میرے گھر والوں میں ہے (تو اس کو بھی نجات دے) تیرا وعدہ سچا ہے اور تو سب سے بہتر حاکم ہے
En
نوح ﴿علیہ السلام﴾ نے اپنے پروردگار کو پکارا اور کہا کہ میرے رب میرا بیٹا تو میرے گھر والوں میں سے ہے، یقیناً تیرا وعده بالکل سچا ہے اور تو تمام حاکموں سے بہتر حاکم ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَنَادٰى نُوْحٌ رَّبَّهٗ فَقَالَ رَبِّ اِنَّ ابْنِیْ مِنْ اَهْ٘لِیْ وَاِنَّ وَعْدَكَ الْحَقُّ اور نوح نے اپنے رب کو پکارا اور کہا، بے شک میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے اور تیرا وعدہ سچا ہے اور تو نے مجھ سے فرمایا تھا: ﴿ احْمِلْ فِیْهَا مِنْ كُ٘لٍّ زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ وَاَهْلَكَ ہر قسم کے جانداروں میں سے جوڑا جوڑا کشتی میں سوار کر لو اور اپنے گھر والوں کو بھی اور تو نے جو وعدہ مجھ سے کیا ہے تو اس کی خلاف ورزی نہیں کرے گا۔
شاید جب نوح علیہ السلام کی شفقت پدری نے جوش مارا، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے گھروں والوں کو بچانے کا وعدہ کیا تھا تو نوح علیہ السلام نے سمجھا کہ یہ وعدہ تمام لوگوں کو شامل ہے خواہ وہ ایمان لائے ہوں یا نہ لائے ہوں، اس لیے انھوں نے اپنے رب سے یہ دعا مانگی۔ مگر اس کے باوجود انھوں نے دعا مانگتے ہوئے تمام معاملہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی حکمت بالغہ کے سپرد کر دیا اور عرض کیا: ﴿ وَاَنْتَ اَحْكَمُ الْحٰؔكِمِیْنَ اور تو سب سے بڑا حاکم ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ونادى نوحٌ ربَّه فقالَ ربِّ إنَّ ابني من أهلي وإنَّ وعدَكَ الحقُّ}؛ [أي]: وقد قلتَ لي: فاحملْ فيها من كلٍّ زوجين اثنين وأهلَكَ، ولن تُخْلِفَ ما وَعَدْتَني به. لعلَّه عليه الصلاة والسلام ـ حملتْه الشفقةُ وأنَّ الله وعده بنجاة أهلِهِ ـ ظنَّ أنَّ الوعد لعمومهم؛ مَن آمن ومَن لم يؤمن؛ فلذلك دعا ربَّه بذلك الدُّعاء، ومع هذا؛ ففوَّض الأمر لحكمة الله البالغة.