تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ هود (11) — آیت 123

وَ لِلّٰہِ غَیۡبُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ اِلَیۡہِ یُرۡجَعُ الۡاَمۡرُ کُلُّہٗ فَاعۡبُدۡہُ وَ تَوَکَّلۡ عَلَیۡہِ ؕ وَ مَا رَبُّکَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۲۳﴾٪
اور اللہ ہی کے پاس آسمانوں اور زمین کا غیب ہے اور سب کے سب کام اسی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں۔ سو اس کی عبادت کر اور اس پر بھروسا کر اور تیرا رب اس سے ہرگز غافل نہیں جو تم کرتے ہو۔ En
اور آسمانوں اور زمین کی چھپی چیزوں کا علم خدا ہی کو ہے اور تمام امور کا رجوع اسی کی طرف ہے۔ تو اسی کی عبادت کرو اور اسی پر بھروسہ رکھو۔ اور جو کچھ تم کررہے ہو تمہارا پروردگار اس سے بےخبر نہیں
En
زمینوں اور آسمانوں کا علم غیب اللہ تعالیٰ ہی کو ہے، تمام معاملات کا رجوع بھی اسی کی جانب ہے، پس تجھے اسی کی عبادت کرنی چاہئے اور اسی پر بھروسہ رکھنا چاہئے اور تم جو کچھ کرتے ہو اس سے اللہ تعالیٰ بے خبر نہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ نے دونوں گروہوں کے درمیان جو فرق ہے اسے بیان کر دیا۔ اس نے اپنے بندوں کو دکھا دیا کہ وہ اپنے مومن بندوں کی مدد کرتا ہے اور انبیائے کرام کو جھٹلانے والے دشمنان الٰہی کا قلع قمع کرتا ہے۔﴿ وَلِلّٰهِ غَیْبُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اور اللہ ہی کے پاس ہے چھپی بات آسمانوں اور زمین کی یعنی تمام مخفی چیزیں اور غیبی امور جو آسمانوں اور زمین میں سربستہ ہیں ان سب کو اللہ تعالیٰ جانتا ہے ﴿ وَاِلَیْهِ یُرْجَعُ الْاَمْرُؔ كُلُّهٗ اور اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے تمام کام تمام اعمال اور عمل کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹنا ہے وہ پاک اور ناپاک کو علیحدہ علیحدہ کر دے گا۔ ﴿ فَاعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ عَلَیْهِ پس اسی کی عبادت کریں اور اسی پر بھروسہ رکھیں یعنی اللہ تعالیٰ کی عبودیت کو قائم کیجیے اس سے مراد اللہ تعالیٰ کے وہ تمام احکام ہیں جن کی تعمیل پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قادر ہیں اور اس میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کیجیے۔ ﴿ وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ آپ کا رب ان اچھے اور برے اعمال سے غافل نہیں ہے جن کو تم بجا لاتے ہو بلکہ اس کا علم ان اعمال کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور ان پر اس کا قلم جاری ہو چکا ہے اور اب اس پر اس کا حکم اور جزا کا فیصلہ جاری ہوگا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وقد فصَل الله بين الفريقين، وأرى عبادَه نَصْرَه لعبادِه المؤمنين، وقَمْعَه لأعداء الله المكذبين. {ولله غيبُ السمواتِ والأرض}؛ أي: ما غاب فيهما من الخفايا والأمور الغيبيَّة، {وإليه يُرْجَعُ الأمرُ كلُّه}: من الأعمال والعمال، فيميز الخبيثُ من الطيِّب، {فاعبُدْه وتوكَّلْ عليه}؛ أي: قم بعبادته، وهي جميع ما أمر الله به مما تقدر عليه. {وتوكَّلْ على الله}: في ذلك.

{وما ربُّك بغافل عما تعملون}: من الخير والشرِّ، بل قد أحاط علمُه بذلك، وجرى به قلمه، وسيجري عليه حكمه وجزاؤه.