تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الماعون (107) — آیت 4

فَوَیۡلٌ لِّلۡمُصَلِّیۡنَ ۙ﴿۴﴾
پس ان نمازیوں کے لیے بڑی ہلاکت ہے۔ En
تو ایسے نمازیوں کی خرابی ہے
En
ان نمازیوں کے لئے افسوس (اور ویل نامی جہنم کی جگہ) ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿فَوَیْلٌ لِّلْمُصَلِّ٘یْ٘نَ۠ ہلاکت ہے نماز کا التزام کرنے والوں کے لیے مگر وہ جو ﴿عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُوْنَ اپنی نماز سے غافل ہیں۔ یعنی وہ اپنی نماز کو ضائع کرتے ہیں، اس کے وقت مسنون کو ترک کرتے ہیں اور اس کے ارکان کو برے طریقے سے ادا کرتے ہیں۔ اس کا سبب اللہ تعالیٰ کے حکم کا عدم اہتمام ہے کہ انھوں نے نماز کو ترک کر دیا جو سب سے اہم عبادت ہے۔ نماز سے غفلت ہی ہے جو نمازی کو مذمت اور ملامت کا مستحق بناتی ہے۔ اور رہا نماز کے اندر سہو، تو یہ ہر ایک سے واقع ہو جاتا ہے حتیٰ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی سہو واقع ہوا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فويلٌ للمصلِّينَ}؛ أي: الملتزمين لإقامة الصلاة، ولكنهم {عن صلاتهم ساهونَ}؛ أي: مضيِّعون لها، تاركون لوقتها، مُخِلُّون بأركانها، وهذا لعدم اهتمامهم بأمر الله؛ حيث ضيَّعوا الصلاة التي هي أهمُّ الطاعات، والسَّهو عن الصَّلاة هو الذي يستحقُّ صاحبه الذمَّ واللوم ، وأمَّا السَّهو في الصَّلاة؛ فهذا يقع من كلِّ أحدٍ، حتَّى من النبيِّ - صلى الله عليه وسلم -.