تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الماعون (107) — آیت 2

فَذٰلِکَ الَّذِیۡ یَدُعُّ الۡیَتِیۡمَ ۙ﴿۲﴾
تو یہی ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے۔ En
یہ وہی (بدبخت) ہے، جو یتیم کو دھکے دیتا ہے
En
یہی وه ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿فَذٰلِكَ الَّذِیْ یَدُعُّ الْیَتِیْمَ پس یہی وہ شخص ہے جو سخت دلی اور تندخوئی سے یتیم کو دھکے دیتا ہے اور اپنی قساوت قلبی کی بنا پر اس پر رحم نہیں کرتا۔ نیز اس کا سبب یہ بھی ہے کہ وہ ثواب کی امید رکھتا ہے نہ عذاب سے ڈرتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فذلك الذي يَدُعُّ اليتيمَ}؛ أي: يدفعه بعنفٍ وشدَّةٍ، ولا يرحمه؛ لقساوة قلبه، ولأنَّه لا يرجو ثواباً ولا يخاف عقاباً.