تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ العاديات (100) — آیت 9

اَفَلَا یَعۡلَمُ اِذَا بُعۡثِرَ مَا فِی الۡقُبُوۡرِ ۙ﴿۹﴾
تو کیا وہ نہیں جانتاجب قبروں میں جو کچھ ہے باہر نکال پھینکا جائے گا۔ En
کیا وہ اس وقت کو نہیں جانتا کہ جو (مردے) قبروں میں ہیں وہ باہر نکال لیے جائیں گے
En
کیا اسے وه وقت معلوم نہیں جب قبروں میں جو (کچھ) ہے نکال لیا جائے گا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اس لیے اللہ تعالیٰ نے یوم وعید کا خوف دلاتے ہوئے فرمایا: ﴿ اَفَلَا یَعْلَمُ یعنی اپنے آپ کو طاقت ور سمجھنے والا یہ شخص کیا نہیں جانتا؟ ﴿ اِذَا بُعْثِرَ مَا فِی الْقُبُوْرِ جب اللہ تعالیٰ قبروں میں سے مردوں کو ان کے حشر و نشر کے لیے نکالے گا۔ ﴿ وَحُصِّلَ مَا فِی الصُّدُوْرِ اور جو کچھ سینوں میں ہے وہ ظاہر اور واضح ہو جائے گا، سینوں کے اندر جو بھلائی یا برائی ہے وہ چھپی نہ رہے گی، ہر بھید کھل جائے گا اور باطل ظاہر ہو جائے گا اور ان کے اعمال کا نتیجہ تمام مخلوق کے سامنے آ جائے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولهذا قال حاثًّا له على خوف يوم الوعيد: {أفلا يعلمُ}؛ أي: هلاّ يعلم هذا المغتر، {إذا بُعْثِرَ ما في القبورِ}؛ أي: أخرج الله الأموات من قبورهم لحشرهم ونشورهم، {وحُصِّل ما في الصُّدور}؛ أي: ظهر وبان ما فيها وما استتر في الصدور من كمائن الخير والشرِّ، فصار السرُّ علانيةً والباطن ظاهراً، وبان على وجوه الخلق نتيجة أعمالهم.