تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ فَقَالُوْا﴾ تو انھوں نے موسیٰ علیہ السلام کی نصیحت پر عمل کرتے ہوئے کہا: ﴿ عَلَىاللّٰهِتَوَكَّلْنَا١ۚرَبَّنَالَاتَجْعَلْنَافِتْنَةًلِّلْ٘قَوْمِالظّٰلِمِیْنَ ﴾”ہم نے اللہ پر بھروسہ کیا، اے ہمارے رب، ہمیں ظالم لوگوں کی آزمائش کا نشانہ نہ بنانا“ یعنی ظالموں کو ہم پر مسلط نہ کر کہ وہ ہمیں فتنہ میں مبتلا کریں یا وہ غالب آکر ہمیں آزمائش میں ڈالیں اور کہیں کہ اگر یہ لوگ حق پر ہوتے تو مغلوب نہ ہوتے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{فقالوا}: ممتثلين لذلك: {على الله توكَّلْنا ربَّنا لا تَجْعَلْنا فتنةً للقوم الظالمين}؛ أي: لا تسلطهم علينا فَيَفْتِنُونا أو يَغْلِبُونا، فَيُفْتَنُون بذلك، ويقولون: لو كانوا على حقٍّ لما غُلِبوا.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔