تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ يونس (10) — آیت 85

فَقَالُوۡا عَلَی اللّٰہِ تَوَکَّلۡنَا ۚ رَبَّنَا لَا تَجۡعَلۡنَا فِتۡنَۃً لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿ۙ۸۵﴾
تو انھوں نے کہا ہم نے اللہ ہی پر بھروسا کیا، اے ہمارے رب! ہمیں ظالم لوگوں کے لیے آزمائش نہ بنا۔ En
تو وہ بولے کہ ہم خدا ہی پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ اے ہمارے پروردگار ہم کو ظالم لوگوں کے ہاتھ سے آزمائش میں نہ ڈال
En
انہوں نے عرض کیا کہ ہم نے اللہ ہی پر توکل کیا۔ اے ہمارے پروردگار! ہم کو ان ﻇالموں کے لئے فتنہ نہ بنا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ فَقَالُوْا تو انھوں نے موسیٰ علیہ السلام کی نصیحت پر عمل کرتے ہوئے کہا: ﴿ عَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْنَا١ۚ رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلْ٘قَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ ہم نے اللہ پر بھروسہ کیا، اے ہمارے رب، ہمیں ظالم لوگوں کی آزمائش کا نشانہ نہ بنانا یعنی ظالموں کو ہم پر مسلط نہ کر کہ وہ ہمیں فتنہ میں مبتلا کریں یا وہ غالب آکر ہمیں آزمائش میں ڈالیں اور کہیں کہ اگر یہ لوگ حق پر ہوتے تو مغلوب نہ ہوتے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فقالوا}: ممتثلين لذلك: {على الله توكَّلْنا ربَّنا لا تَجْعَلْنا فتنةً للقوم الظالمين}؛ أي: لا تسلطهم علينا فَيَفْتِنُونا أو يَغْلِبُونا، فَيُفْتَنُون بذلك، ويقولون: لو كانوا على حقٍّ لما غُلِبوا.