تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ يونس (10) — آیت 84

وَ قَالَ مُوۡسٰی یٰقَوۡمِ اِنۡ کُنۡتُمۡ اٰمَنۡتُمۡ بِاللّٰہِ فَعَلَیۡہِ تَوَکَّلُوۡۤا اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّسۡلِمِیۡنَ ﴿۸۴﴾
اور موسیٰ نے کہا اے میری قوم! اگر تم اللہ پر ایمان لائے ہو تو اسی پر بھروسا کرو، اگر تم فرماں بردار ہو۔ En
اور موسیٰ نے کہا کہ بھائیو! اگر تم خدا پر ایمان لائے ہو تو اگر (دل سے) فرمانبردار ہو تو اسی پر بھروسہ رکھو
En
اور موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اے میری قوم! اگر تم اللہ پر ایمان رکھتے ہو تو اسی پر توکل کرو اگر تم مسلمان ہو En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَقَالَ مُوْسٰؔى موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کو صبر کی تلقین کرتے ہوئے اور ان امور کو اختیار کرنے کی نصیحت کرتے ہوئے جو صبر میں مدد کرتے ہیں، کہا: ﴿ یٰقَوْمِ اِنْ كُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ بِاللّٰهِ اے میری قوم، اگر تم ایمان لائے ہو اللہ پر تو وظیفۂ ایمان کو پورا کرنے کے لیے کھڑے ہو جاؤ۔ ﴿ فَعَلَیْهِ تَوَكَّلُوْۤا اِنْ كُنْتُمْ مُّسْلِمِیْنَ تو اسی پر توکل کرو اگر تم مسلمان ہو۔ یعنی اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ کرو، اسی کی پناہ لو اور اسی سے مدد طلب کرو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وقال موسى}: موصياً لقومه بالصبر، ومذكِّراً لهم ما يستعينون به على ذلك، فقال: {يا قوم إن كنتُم آمنتُم بالله}: فقوموا بوظيفة الإيمان، وعلى الله {توكَّلوا إن كنتُم مسلمينَ}؛ أي: اعتمدوا عليه والجؤوا إليه واستنصروه.