تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَقَالَمُوْسٰؔى﴾موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کو صبر کی تلقین کرتے ہوئے اور ان امور کو اختیار کرنے کی نصیحت کرتے ہوئے جو صبر میں مدد کرتے ہیں، کہا: ﴿ یٰقَوْمِاِنْكُنْتُمْاٰمَنْتُمْبِاللّٰهِ ﴾”اے میری قوم، اگر تم ایمان لائے ہو اللہ پر“ تو وظیفۂ ایمان کو پورا کرنے کے لیے کھڑے ہو جاؤ۔ ﴿ فَعَلَیْهِتَوَكَّلُوْۤااِنْكُنْتُمْمُّسْلِمِیْنَ ﴾”تو اسی پر توکل کرو اگر تم مسلمان ہو۔“ یعنی اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ کرو، اسی کی پناہ لو اور اسی سے مدد طلب کرو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وقال موسى}: موصياً لقومه بالصبر، ومذكِّراً لهم ما يستعينون به على ذلك، فقال: {يا قوم إن كنتُم آمنتُم بالله}: فقوموا بوظيفة الإيمان، وعلى الله {توكَّلوا إن كنتُم مسلمينَ}؛ أي: اعتمدوا عليه والجؤوا إليه واستنصروه.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔