تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ يونس (10) — آیت 82

وَ یُحِقُّ اللّٰہُ الۡحَقَّ بِکَلِمٰتِہٖ وَ لَوۡ کَرِہَ الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴿٪۸۲﴾
اور اللہ حق کو اپنی باتوں کے ساتھ سچا کر دیتاہے، خواہ مجرم برا ہی جانیں۔ En
اور خدا اپنے حکم سے سچ کو سچ ہی کردے گا اگرچہ گنہگار برا ہی مانیں
En
اور اللہ تعالیٰ حق کو اپنے فرمان سے ﺛابت کردیتا ہے گو مجرم کیسا ہی ناگوار سمجھیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

موسیٰ علیہ السلام نے اپنا عصا پھینکا تو وہ ان کے جادو کو نگلتا چلا گیا۔ پس ان کا جادو باطل اور ان کا باطل زائل ہو کر رہ گیا۔ ﴿ وَیُحِقُّ اللّٰهُ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَلَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُوْنَ اور اللہ سچا کرتا ہے حق بات کو اپنے حکم سے، اگرچہ گناہ گاروں کو نا گوار ہو جب جادوگروں کے سامنے حق واضح ہوگیا تو انھوں نے موسیٰ علیہ السلام کے سامنے سر اطاعت خم کر دیا۔ فرعون نے ان کو سولی پر لٹکانے اور ہاتھ پاؤں کاٹ دینے کی دھمکی دی مگر انھوں نے اس کی کوئی پروا نہ کی اور وہ اپنے ایمان میں ثابت قدم رہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فألقى موسى عصاه، فتلقَّفت جميع ما صنعوا، فبطل سِحْرُهم، واضمحلَّ باطلهم. {و} أحقَّ {اللهُ الحقَّ بكلماته ولو كره المجرمون}: فألقي السحرة حين تبيَّن لهم الحقُّ، فتوعَّدهم فرعون بالصلب وتقطيع الأيدي والأرجل، فلم يبالوا بذلك، وثبتوا على إيمانهم.