اس آیت کی تفسیر آیت 81 میں تا آیت 83 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
82۔ 1 یا کلمات سے مراد وہ دلائل وبراہین ہیں، جو اللہ تعالیٰ اپنی کتابوں میں اتارتا رہا جو پیغمبروں کو وہ عطا فرماتا تھا۔ یا وہ معجزات ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے انبیاء کے ہاتھوں سے صادر ہوتے تھے، یا اللہ کا وہ حکم ہے جو لفظ کُنْ سے صادر فرماتا ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
82۔ اور اللہ اپنے حکم سے سچ کو سچ ہی کر دکھائے گا اگرچہ یہ بات مجرموں کو ناگوار ہو
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
موسیٰ علیہ السلام نے اپنا عصا پھینکا تو وہ ان کے جادو کو نگلتا چلا گیا۔ پس ان کا جادو باطل اور ان کا باطل زائل ہو کر رہ گیا۔ ﴿ وَیُحِقُّاللّٰهُالْحَقَّبِكَلِمٰتِهٖوَلَوْكَرِهَالْمُجْرِمُوْنَ﴾”اور اللہ سچا کرتا ہے حق بات کو اپنے حکم سے، اگرچہ گناہ گاروں کو نا گوار ہو“ جب جادوگروں کے سامنے حق واضح ہوگیا تو انھوں نے موسیٰ علیہ السلام کے سامنے سر اطاعت خم کر دیا۔ فرعون نے ان کو سولی پر لٹکانے اور ہاتھ پاؤں کاٹ دینے کی دھمکی دی مگر انھوں نے اس کی کوئی پروا نہ کی اور وہ اپنے ایمان میں ثابت قدم رہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فألقى موسى عصاه، فتلقَّفت جميع ما صنعوا، فبطل سِحْرُهم، واضمحلَّ باطلهم. {و} أحقَّ {اللهُ الحقَّ بكلماته ولو كره المجرمون}: فألقي السحرة حين تبيَّن لهم الحقُّ، فتوعَّدهم فرعون بالصلب وتقطيع الأيدي والأرجل، فلم يبالوا بذلك، وثبتوا على إيمانهم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔