تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ يونس (10) — آیت 80

فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَۃُ قَالَ لَہُمۡ مُّوۡسٰۤی اَلۡقُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ مُّلۡقُوۡنَ ﴿۸۰﴾
تو جب جادوگر آگئے تو موسیٰ نے ان سے کہا پھینکو جو کچھ تم پھینکنے والے ہو۔ En
جب جادوگر آئے تو موسیٰ نے ان سے کہا تم کو جو ڈالنا ہے ڈالو
En
پھر جب جادوگر آئے تو موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا کہ ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ فَلَمَّؔا جَآءَ السَّحَرَةُ پس جب جادو گر آئے یعنی موسیٰ علیہ السلام کا مقابلہ کرنے کے لیے ﴿ قَالَ لَهُمْ مُّوْسٰۤى اَلْقُوْا مَاۤ اَنْتُمْ مُّلْ٘قُوْنَ تو ان سے موسیٰ نے کہا، ڈالو جو تم ڈالتے ہو۔ یعنی تم وہی کرو جو تم ارادہ رکھتے ہو میں تمھارے لیے کچھ مقرر نہیں کروں گا... اور ایسا کہنے کی وجہ یہ تھی کہ موسیٰ علیہ السلام کو ان پر غالب آنے کا پورا یقین تھا، اس لیے ان کو اس بات کی پروا نہ تھی کہ وہ جادو کا کون سا کرتب دکھاتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فلما جاء السحرة}: للمغالبة لموسى ، {قال لهم موسى ألقوا ما أنتم ملقون}؛ أي: أيَّ شيء أردتم، لا أعيِّن لكم شيئاً، وذلك لأنَّه جازمٌ بغلبتِهِ غير مبالٍ بهم وبما جاؤوا به.