تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَقَالَفِرْعَوْنُ ﴾”اور فرعون نے کہا۔“ یعنی فرعون نے موسیٰ علیہ السلام کی لائی ہوئی دعوت حق کی مخالفت، اپنے سرداروں اور اپنی قوم کے لیے غلبہ کی کوشش کرتے ہوئے کہا: ﴿ ائْتُوْنِیْبِكُ٘لِّسٰؔحِرٍعَلِیْمٍ﴾”سب ماہر فن جادوگروں کو ہمارے پاس لے آؤ۔“ یعنی ہر ماہر اور پختہ جادوگر کو میری خدمت میں حاضر کرو۔ اس نے مصر کے شہروں میں ہرکارے دوڑائے تاکہ وہ مختلف قسم کے جادوگروں کو اس کے پاس لے کر آئیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وقال فرعون}؛ معارضاً للحقِّ الذي جاء به موسى ومغالباً لملئِهِ وقومه: {ائتوني بكلِّ ساحر عليم}؛ أي: ماهر بالسحر متقن له. فأرسل في مدائن مصر من أتاه بأنواع السَّحرة على اختلاف أجناسهم وطبقاتهم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔