اور ان پر نوح کی خبر پڑھ، جب اس نے اپنی قوم سے کہا اے میری قوم! اگر میرا کھڑا ہونا اور اللہ کی آیات کے ساتھ میرا نصیحت کرنا تم پر بھاری گزرا ہے تو میں نے اللہ ہی پر بھروسا کیا ہے، سو تم اپنا معاملہ اپنے شرکا کے ساتھ مل کر پکا کر لو، پھر تمھارا معاملہ تم پر کسی طرح مخفی نہ رہے، پھر میرے ساتھ کر گزرو اور مجھے مہلت نہ دو۔
En
اور ان کو نوح کا قصہ پڑھ کر سنادو۔ جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ اے قوم! اگر تم کو میرا تم میں رہنا اور خدا کی آیتوں سے نصیحت کرنا ناگوار ہو تو میں خدا پر بھروسہ رکھتا ہوں۔ تم اپنے شریکوں کے ساتھ مل کر ایک کام (جو میرے بارے میں کرنا چاہو) مقرر کرلو اور وہ تمہاری تمام جماعت (کو معلوم ہوجائے اور کسی) سے پوشیدہ نہ رہے اور پھر وہ کام میرے حق میں کر گزرو اور مجھے مہلت نہ دو
اور آپ ان کو نوح﴿علیہ السلام﴾ کا قصہ پڑھ کر سنائیے جب کہ انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا کہ اے میری قوم! اگر تم کو میرا رہنا اور احکام الٰہی کی نصیحت کرنا بھاری معلوم ہوتا ہے تو میرا تو اللہ ہی پر بھروسہ ہے۔ تم اپنی تدبیر مع اپنے شرکا کے پختہ کرلو پھر تمہاری تدبیر تمہاری گھٹن کا باعﺚ نہ ہونی چاہئے۔ پھر میرے ساتھ کر گزرو اور مجھ کو مہلت نہ دو
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے: ﴿ وَاتْلُعَلَیْهِمْ ﴾”اور ان کو سنایئے“ یعنی اپنی قوم کے سامنے تلاوت کر دیجیے ﴿ نَبَاَنُوْحٍ﴾”نوح کا حال“ یعنی جناب نوح علیہ السلام کی دعوت کا حال، جو انھوں نے اپنی قوم کے سامنے پیش کی تھی وہ ایک طویل مدت تک ان کو دعوت دیتے رہے۔ پس وہ اپنی قوم کے درمیان نو سو پچاس برس تک رہے مگر ان کی دعوت نے ان کی سرکشی میں اضافہ ہی کیا اور وہ آپ کی دعوت سے اکتا گئے اور سخت تنگ آگئے۔ نوح علیہ السلام نے ان کو دعوت دینے میں کسی سستی کا مظاہرہ کیا نہ کوتاہی کا، چنانچہ آپ ان سے کہتے رہے ﴿یٰقَوْمِاِنْكَانَكَبُرَعَلَیْكُمْمَّقَامِیْوَتَذْكِیْرِیْ ﴾”اے میری قوم! اگر بھاری ہوا ہے تم پر میرا کھڑا ہونا اور میرا نصیحت کرنا“ یعنی میرا تمھارے پاس ٹھہرنا اور تمھیں وعظ و نصیحت کرنا جو تمھارے لیے فائدہ مند ہے ﴿ بِاٰیٰتِاللّٰهِ ﴾”اللہ کی آیتوں سے“ یعنی واضح دلائل کے ذریعے سے اور یہ چیز تمھارے لیے بہت بڑی اور تم پر شاق گزرتی ہے اور تم مجھے نقصان پہنچانے یا دعوت حق کو ٹھکرانے کا ارادہ رکھتے ہو۔ ﴿ فَ٘عَلَىاللّٰهِتَوَكَّؔلْتُ ﴾”تو میں نے اللہ پر بھروسہ کیا ہے“ یعنی اس تمام شر کو دفع کرنے میں جو تم مجھے اور میری دعوت کو پہنچانا چاہتے ہو، میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتا ہوں۔ یہی توکل، میرا لشکر اور میرا تمام ساز و سامان ہے اور تم اپنے تمام تر سروسامان اور تعداد کے ساتھ جو کچھ کر سکتے ہو کر لو ﴿ فَاَجْمِعُوْۤااَمْرَؔكُمْ ﴾”اب تم سب مل کر مقرر کرو اپنا کام“ تم تمام لوگ اکٹھے ہو کر، کہ تم میں سے کوئی پیچھے نہ رہے، میرے خلاف جدوجہد میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھو۔ ﴿ وَشُ٘رَؔكَآءَكُمْ ﴾”اور جمع کرو اپنے شریکوں کو“ یعنی ان تمام شریکوں کو بلا لو، جن کی تم اللہ رب العالمین کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہو اور انھیں تم اپنا والی و مددگار بناتے ہو۔ ﴿ ثُمَّلَایَكُنْاَمْرُؔكُمْعَلَیْكُمْغُمَّؔةً ﴾”پھر نہ رہے تم کو اپنے کام میں اشتباہ“ یعنی اس بارے میں تمھارا معاملہ مشتبہ اور خفیہ نہ ہو بلکہ تمھارا معاملہ ظاہر اور علانیہ ہو۔ ﴿ ثُمَّاقْضُوْۤااِلَیَّ ﴾”پھر وہ کام میرے حق میں کر گزرو۔“ یعنی میرے خلاف جو کچھ تمھارے بس میں ہے، سزا اور عقوبت کا فیصلہ سنا دو۔ ﴿ وَلَاتُنْظِرُوْنِ ﴾”اور مجھے مہلت نہ دو۔“ یعنی تم مجھے دن کی ایک گھڑی کے لیے بھی مہلت نہ دو۔
یہ نوح علیہ السلام کی رسالت کی صحت اور آپ کے دین کی صداقت کی قطعی دلیل اور بہت بڑی نشانی ہے کیونکہ آپ تنہا تھے آپ کا کوئی قبیلہ تھا جو آپ کی حمایت کرتا نہ آپ کے پاس کوئی فوج تھی جو آپ کی حفاظت کرتی۔ حضرت نوح کی قوم نے اپنی حماقت انگیز آراء، فساد دین اور اپنے خود ساختہ معبودان کے عیوب کا پرچار کیا اور آپ کے ساتھ بغض اور عداوت کا مظاہرہ کیا جو پہاڑوں اور چٹانوں سے زیادہ سخت تھی وہ مشرکین قدرت اور سطوت رکھنے والے لوگ تھے۔ نوح علیہ السلام نے ان سے فرمایا ”تم، تمھارے گھڑے ہوئے شریک اور جن کو تم بلانے کی استطاعت رکھتے ہو، سب اکٹھے ہو جاؤ اور میرے خلاف جو چال تم چل سکتے ہو اگر قدرت رکھتے ہو تو چل کر دیکھ لو۔“ پس وہ کچھ بھی نہ کر سکے۔ تب معلوم ہوا کہ حضرت نوح علیہ السلام سچے اور وہ اپنی دھمکیوں میں جھوٹے تھے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى لنبيه: واتلُ على قومك {نبأ نوح}: في دعوته لقومه حين دعاهم إلى الله مدةً طويلةً فمكث فيهم ألف سنة إلا خمسين عاماً، فلم يزدهم دعاؤه إياهم إلا طغياناً، فتملَّلوا منه وسئموا، وهو عليه الصلاة والسلام غير متكاسل ولا متوانٍ في دعوتهم، فقال لهم: {يا قوم إن كانَ كَبُرَ عليكم مَقامي وتذكيري بآيات الله}؛ أي: إن كان مقامي عندكم وتذكيري إيَّاكم ما ينفعهم بآيات الله الأدلَّة الواضحة البيِّنة، قد شقَّ عليكم، وعَظُم لديكم، وأردتم أن تنالوني بسوء أو تردُّوا الحقَّ. {فعلى الله توكَّلْتُ}؛ أي: اعتمدتُ على الله في دفع كلِّ شرٍّ يُراد بي وبما أدعو إليه؛ فهذا جندي وعدتي. وأنتم؛ فأتوا بما قدرتم عليه من أنواع العُدَد والعَدَد، {فأجمِعوا أمركم}: كلكم بحيث لا يتخلَّف منكم أحدٌ ولا تدَّخروا من مجهودكم شيئاً، {و} أحضروا {شركاءكم}: الذين كنتم تعبدونهم وتوالونهم من دون الله ربِّ العالمين، {ثم لا يكُنْ أمرُكم عليكم غُمَّةً}؛ أي: مشتبهاً خفيًّا، بل ليكنْ ذلك ظاهراً علانيةً. {ثم اقضوا إليَّ}؛ أي: اقضوا عليَّ بالعقوبة والسوء الذي في إمكانكم، {ولا تنظرون}؛ أي: لا تمهلوني ساعةً من نهار.
فهذا برهانٌ قاطعٌ وآيةٌ عظيمةٌ على صحة رسالته وصدق ما جاء به؛ حيث كان وحده لا عشيرة تحميه ولا جنود تؤويه، وقد بَادَى قومه بتسفيه آرائهم وفساد دينهم وعَيْب آلهتهم، وقد حملوا من بغضه وعداوته ما هو أعظم من الجبال الرواسي، وهم أهل القدرة والسطوة، وهو يقولُ لهم: اجتمعوا أنتم وشركاؤكم ومن استطعتم، وأبدوا كلَّ ما تقدرون عليه من الكيد، فأوقعوا بي إن قدرتُم على ذلك، فلم يقدروا على شيءٍ من ذلك، فعُلِمَ أنه الصادق حقًّا، وهم الكاذبون فيما يدعون.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔