تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ نوح علیہ السلام اولوالعزم رسولوں میں سے ایک ہیں۔ قرآن میں ان کا ذکر تینتالیس (۴۳) جگہ آیا ہے، ان کی قوم بت پرست تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اولین مخاطب اہل عرب بھی بت پرست تھے، ان کے بتوں کے نام بھی تقریباً ملتے جلتے تھے۔ نوح علیہ السلام اور ان کی قوم کا ذکر سورۂ اعراف، ہود، مومنون اور نوح میں زیادہ تفصیل کے ساتھ آیا ہے، یہاں مختصر ذکر ہے اور ان کی زندگی کا یہ پہلو زیادہ نمایاں کیا ہے کہ طویل مدت تک اپنی قوم میں رہنے اور ان کے ایمان نہ لانے کے باوجود ان کا اللہ تعالیٰ پر اتنا بھروسا تھا کہ انھوں نے اپنی قوم کو چیلنج کیا کہ تم سب مل کر مجھے جو نقصان پہنچا سکتے ہو پہنچا لو۔
➌ {” فَاَجْمِعُوْۤا “} باب افعال سے امر ہے، {” اَجْمَعْتُ عَلَي الْاَمْرِ“} یعنی میں نے فلاں کام کا پکا ارادہ کرلیا۔ {” وَ شُرَكَآءَكُمْ “} مفعول معہ ہے اور واؤ بمعنی {” مَعَ “} ہے۔ {” غُمَّةً “} پوشیدگی کے معنی میں ہے۔ چنانچہ کہا جاتا ہے: {”غَمَّ عَلٰي فُلاَنٍ الْاَمْرُ“} ”فلاں شخص پر معاملہ مخفی اور پوشیدہ رہا۔“ یعنی نوح علیہ السلام نے یہ ظاہر کرنے کے لیے کہ وہ پوری قوم کی اور ان کے جہالت سے بنائے ہوئے خداؤں کی ذرہ برابر وقعت نہیں سمجھتے اور ان کا اپنے رب پر اتنا توکل ہے کہ وہ ان کی کسی سازش سے نہیں ڈرتے، سب کو صاف چیلنج کیا کہ اگر میرا تم میں رہنا اور نصیحت کرنا تم پر بھاری ہے اور تم سمجھانے سے سمجھنے پر کسی طرح تیار نہیں تو اپنے بتوں کے ساتھ مل کر، جنھیں تم جہالت اور بے شرمی سے اللہ تعالیٰ کا شریک قرار دیتے ہو، میرے خلاف جو سازش میرے قتل یا ایذا کی کر سکتے ہو کر لو۔
➍ { ثُمَّ لَا يَكُنْ اَمْرُكُمْ …:} یعنی میرے مار ڈالنے کا جو منصوبہ تیار کرو اس پر اچھی طرح غور کر لو تاکہ اس کا کوئی پہلو تم پر ڈھکا چھپا نہ رہے، پھر میرے ساتھ جو کرنا چاہتے ہو کر گزرو اور مجھے مہلت مت دو۔
➎ ان آیات سے نوح علیہ السلام کی انتہا درجے کی شجاعت، اللہ تعالیٰ پر کمال توکل، مخلوق سے کلی استغناء اور فریضۂ رسالت کی نہایت طویل مدت تک بغیر وقفے یا اکتاہٹ یا تھکاوٹ کے مسلسل ادائیگی اور اس کے دوران آنے والی ہر تکلیف، طعن اور استہزا کو کمال صبر سے برداشت کرنا ظاہر ہو رہا ہے۔ تبھی ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی حکم ہوا کہ ان اولوالعزم پیغمبروں کی طرح صبر کرو۔ ہمیں تو ان پر پیش آنے والے حالات کے تصور ہی سے پسینا آ جاتا ہے اور بدن کانپ جاتا ہے، اللہ تعالیٰ ہمیں بھی دعوت کے کام کی ہمت اور توفیق عطا فرمائے۔(آمین)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
نوح علیہ السلام نے ایک مرتبہ ان سے صاف فرما دیا کہ ”اگر تم پر یہ گراں گزرتا ہے کہ میں تم میں رہتا ہوں اور تمہیں اللہ کی باتیں سنا رہا ہوں، تم اس سے چڑتے ہو اور مجھے نقصان پہنچانے درپے ہو تو سنو میں صاف کہتا ہوں کہ میں تم سے نڈر ہوں۔ مجھے تمہاری کوئی پرواہ نہیں۔ میں تمہیں کوئی چیز نہیں سمجھتا۔ میں تم سے مطلقاً نہیں ڈرتا۔ تم سے جو ہو سکے کر لو۔ میرا جو بگاڑ سکو بگاڑ لو۔ تم اپنے ساتھ اپنے شریکوں اور اپنے جھوٹے معبودوں کو بھی بلا لو اور مل جل کر مشورے کر کے بات کھول کر پوری قوت کے ساتھ مجھ پر حملہ کرو، تمہیں قسم ہے جو میرا بگاڑ سکتے ہو اس میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھو، مجھے بالکل مہلت نہ دو، اچانک گھیر لو، میں بالکل بے خوف ہوں، اس لیے کہ تمہاری روش کو میں باطل جانتا ہوں۔ میں حق پر ہوں، حق کا ساتھی اللہ ہوتا ہے، میرا بھروسہ اسی کی عظیم الشان ذات پر ہے، مجھے اس کی قدرت کے بڑائی معلوم ہے۔“
یہی ہود علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ «إِنِّي أُشْهِدُ اللَّـهَ وَاشْهَدُوا أَنِّي بَرِيءٌ مِّمَّا تُشْرِكُونَ مِن دُونِهِ فَكِيدُونِي جَمِيعًا ثُمَّ لَا تُنظِرُونِ إِنِّي تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّـهِ رَبِّي وَرَبِّكُم مَّا مِن دَابَّةٍ إِلَّا هُوَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا إِنَّ رَبِّي عَلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ» ۱؎ [11-هود:54-56] ’ اللہ کے سوا جس جس کی بھی تم پوجا کر رہے ہو۔ میں تم سے اور ان سے بالکل بری ہوں، خوب کان کھول کر سن لو، اللہ بھی سن رہا ہے تم سب مل کر میرے خلاف کوشش کرو، میں تو تم سے مہلت بھی نہیں مانگتا۔ میرا بھروسہ اپنے اور تمہارے حقیقی مربی پر ہے ‘۔
تمام نبیوں کا دین اول سے آخر تک صرف اسلام ہی رہا ہے، گو احکامات میں قدرے اختلاف رہا ہو، جیسے فرمان ہے «لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنكُمْ شِرْعَةً وَمِنْهَاجًا» ۱؎ [5-المائدہ:48] ’ ہر ایک کے لیے راہ اور طریقہ ہے ‘۔ «وَأُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ» ۱؎ [27-النمل:91] ’ دیکھئیے یہ نوح علیہ السلام جو اپنے آپ کو مسلم بتاتے ہیں ‘، «إِذْ قَالَ لَهُ رَبُّهُ أَسْلِمْ قَالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ» ۱؎ [2-البقرة:131،132] ’ یہ ہیں ابراہیم علیہ السلام جو اپنے آپ کو مسلم بتاتے ہیں۔ اللہ ان سے فرماتا ہے اسلام لا۔ وہ جواب دیتے ہیں رب العلمین کے لیے میں اسلام لایا ‘۔
اسی کی وصیت آپ علیہ السلام اور یعقوب علیہ السلام اپنی اولاد کو کرتے ہیں کہ «وَوَصَّىٰ بِهَا إِبْرَاهِيمُ بَنِيهِ وَيَعْقُوبُ يَا بَنِيَّ إِنَّ اللَّـهَ اصْطَفَىٰ لَكُمُ الدِّينَ فَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ» ۱؎ [2-البقرۃ:132] ’ اے میرے بیٹو! اللہ نے تمہارے لیے اسی دین کو پسند فرما لیا ہے۔ خبردار یاد رکھنا مسلم ہونے کی حالت میں ہی موت آئے ‘۔
یوسف علیہ السلام اپنی دعا میں فرماتے ہیں «تَوَفَّنِي مُسْلِمًا وَأَلْحِقْنِي بِالصَّالِحِينَ» ۱؎ [12-يوسف:101] ’ اللہ مجھے اسلام کی حالت میں موت دینا ‘۔
موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم سے فرماتے ہیں کہ «يَا قَوْمِ إِن كُنتُمْ آمَنتُم بِاللَّـهِ فَعَلَيْهِ تَوَكَّلُوا إِن كُنتُم مُّسْلِمِينَ» ۱؎ [10-یونس:84] ’ اگر تم مسلمان ہو تو اللہ پر توکل کرو ‘۔
قرآن فرماتا ہے ہے کہ «إِنَّا أَنزَلْنَا التَّوْرَاةَ فِيهَا هُدًى وَنُورٌ يَحْكُمُ بِهَا النَّبِيُّونَ الَّذِينَ أَسْلَمُوا» ۱؎ [5-المائدہ:44] ’ تورات کے مطابق وہ انبیاء حکم فرماتے ہیں جو مسلمان ہیں ‘۔
«وَإِذْ أَوْحَيْتُ إِلَى الْحَوَارِيِّينَ أَنْ آمِنُوا بِي وَبِرَسُولِي قَالُوا آمَنَّا وَاشْهَدْ بِأَنَّنَا مُسْلِمُونَ» ۱؎ [5-المائدہ:111] ’ حواری عیسیٰ علیہ السلام سے کہتے ہیں آپ علیہ السلام گواہ رہیے ہم مسلمان ہیں ‘۔
خاتم الرسل سید البشر صل اللہ علیہ وسلم نماز کے شروع کی دعا کے آخر میں فرماتے ہیں «قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَٰلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ» ۱؎ [6-الأنعام:162، 163] ’ میں اول مسلمان ہوں یعنی اس امت میں ‘۔
ایک حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { «نَحْنُ مَعَاشِر الْأَنْبِيَاء أَوْلَاد عَلَّات دِيننَا وَاحِد» ہم انبیاء ایسے ہیں جیسے ایک باپ کی اولاد دین ایک اور بعض بعض احکام جدا گانہ }۔
پس توحید میں سب یکساں ہیں گو فروعی احکام میں علیحدگی ہو۔ جیسے وہ بھائی جن کا باپ ایک ہو مائیں جدا جدا ہوں۔
پھر فرماتا ہے ’ قوم نوح نے نوح نبی کریم علیہ السلام کو نہ مانا بلکہ انہیں جھوٹا کہا آخر ہم نے انہیں غرق کر دیا۔ نوح نبی علیہ السلام کو مع ایمانداروں کے اس بدترین عذاب سے ہم نے صاف بچا لیا۔ کشتی میں سوار کر کے انہیں طوفان سے محفوظ رکھ لیا۔ وہی وہ زمین پر باقی رہے پس ہماری اس قدرت کو دیکھ لے کہ کس طرح ظالموں کا نام و نشان مٹا دیا اور کس طرح مومنوں کو بچا لیا ‘۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى لنبيه: واتلُ على قومك {نبأ نوح}: في دعوته لقومه حين دعاهم إلى الله مدةً طويلةً فمكث فيهم ألف سنة إلا خمسين عاماً، فلم يزدهم دعاؤه إياهم إلا طغياناً، فتملَّلوا منه وسئموا، وهو عليه الصلاة والسلام غير متكاسل ولا متوانٍ في دعوتهم، فقال لهم: {يا قوم إن كانَ كَبُرَ عليكم مَقامي وتذكيري بآيات الله}؛ أي: إن كان مقامي عندكم وتذكيري إيَّاكم ما ينفعهم بآيات الله الأدلَّة الواضحة البيِّنة، قد شقَّ عليكم، وعَظُم لديكم، وأردتم أن تنالوني بسوء أو تردُّوا الحقَّ. {فعلى الله توكَّلْتُ}؛ أي: اعتمدتُ على الله في دفع كلِّ شرٍّ يُراد بي وبما أدعو إليه؛ فهذا جندي وعدتي. وأنتم؛ فأتوا بما قدرتم عليه من أنواع العُدَد والعَدَد، {فأجمِعوا أمركم}: كلكم بحيث لا يتخلَّف منكم أحدٌ ولا تدَّخروا من مجهودكم شيئاً، {و} أحضروا {شركاءكم}: الذين كنتم تعبدونهم وتوالونهم من دون الله ربِّ العالمين، {ثم لا يكُنْ أمرُكم عليكم غُمَّةً}؛ أي: مشتبهاً خفيًّا، بل ليكنْ ذلك ظاهراً علانيةً. {ثم اقضوا إليَّ}؛ أي: اقضوا عليَّ بالعقوبة والسوء الذي في إمكانكم، {ولا تنظرون}؛ أي: لا تمهلوني ساعةً من نهار.
فهذا برهانٌ قاطعٌ وآيةٌ عظيمةٌ على صحة رسالته وصدق ما جاء به؛ حيث كان وحده لا عشيرة تحميه ولا جنود تؤويه، وقد بَادَى قومه بتسفيه آرائهم وفساد دينهم وعَيْب آلهتهم، وقد حملوا من بغضه وعداوته ما هو أعظم من الجبال الرواسي، وهم أهل القدرة والسطوة، وهو يقولُ لهم: اجتمعوا أنتم وشركاؤكم ومن استطعتم، وأبدوا كلَّ ما تقدرون عليه من الكيد، فأوقعوا بي إن قدرتُم على ذلك، فلم يقدروا على شيءٍ من ذلك، فعُلِمَ أنه الصادق حقًّا، وهم الكاذبون فيما يدعون.