تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اس لیے آپ کو جھٹلانے والے گزشتہ زمانوں میں ہلاک کی گئی قوموں کی مشابہت سے بچیں۔ ایسا نہ ہو کہ ان پر بھی وہی عذاب نازل ہو جائے جو ان قوموں پر نازل ہوا تھا۔ اللہ تعالیٰ کے عذاب کے بارے میں یہ نہ سمجھیں کہ وہ دیر سے آئے گا اور پھر وہ یہ کہتے پھریں ﴿ مَتٰىهٰؔذَاالْوَعْدُاِنْكُنْتُمْصٰدِقِیْنَ﴾”کب ہے یہ وعدہ، اگر تم سچے ہو“ یہ ان کی طرف سے سخت ظلم کا رویہ ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا مطالبہ کرتے ہیں حالانکہ آپ کے اختیار میں کچھ بھی نہیں۔ آپ کی ذمہ داری تو صرف پہنچا دینا اور لوگوں کے سامنے بیان کر دینا ہے۔
رہا ان کا حساب و کتاب اور ان پر عذاب کا نازل کرنا تو یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ جب اس کی مدت معینہ اور حکمت الٰہیہ کے مطابق ان کا وقت مقررہ آن پہنچے گا تو ان کے ساتھ ایک گھڑی کی تاخیر کی جائے گی نہ تقدیم۔ اس لیے اس کی تکذیب کرنے والے جلدی مچانے سے بچیں کیونکہ وہ درحقیقت اللہ تعالیٰ کے عذاب کے لیے جلدی مچاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا عذاب جب نازل ہوتا ہے تو مجرموں کی قوم پر نازل ہونے سے اسے روکا نہیں جا سکتا۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فليحذر المكذِّبون لك من مشابهة الأمم المهلَكين فيحلَّ بهم ما حلَّ بأولئك ولا يستبطئوا العقوبة ويقولوا: {متى هذا الوعدُ إن كنتُم صادقينَ}: فإنَّ هذا ظلمٌ منهم؛ حيث طَلَبوه من النبيِّ - صلى الله عليه وسلم -؛ فإنه ليس له من الأمر شيءٌ، وإنما عليه البلاغ والبيان للناس، وأما حسابُهم وإنزال العذاب عليهم؛ فمن الله تعالى، يُنزَّلُ عليهم إذا جاء الأجلُ الذي أجَّله فيه والوقت الذي قدَّره فيه الموافقُ لحكمته الإلهية؛ فإذا جاء ذلك الوقت؛ لا يستأخرون ساعة ولا يستقدمون. فليحذرِ المكذِّبون من الاستعجال؛ فإنهم مستعجلون بعذاب الله الذي إذا نزل لا يُرَدُّ بأسُه عن القوم المجرمين. ولهذا قال:
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔