اور ہر امت کے لیے ایک پیغام پہنچانے والا ہے، تو جب ان کا پیغام پہنچانے والا آتا ہے تو ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دیا جاتا ہے اور وہ ظلم نہیں کیے جاتے۔
En
اور ہر ایک اُمت کی طرف سے پیغمبر بھیجا گیا۔ جب ان کا پیغمبر آتا ہے تو اُن میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دیا جاتا ہے اور ان پر کچھ ظلم نہیں کیا جاتا
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿وَلِكُ٘لِّاُمَّةٍ ﴾”ہر امت کے لیے“ یعنی گزشتہ امتوں میں سے ہر امت کے لیے ﴿ رَّسُوْلٌ﴾ ایک رسول مبعوث کیا گیا جو ان کو اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کے دین کی دعوت دیتا تھا۔ ﴿ فَاِذَاجَآءَرَسُوْلُهُمْ﴾”پس جب ان کا رسول آتا۔“ یعنی ان کے پاس آیات الٰہی لے کر آتا تو ان میں سے کچھ لوگ اس کی تصدیق کرتے اور دوسرے اس کو جھٹلاتے۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ فرماتا، اہل ایمان کو نجات دیتا اور جھٹلانے والوں کو ہلاک کر دیتا۔ ﴿ وَهُمْلَایُظْلَمُوْنَ﴾”اور ان پر ظلم نہیں کیا جاتا“ یعنی رسول بھیجنے اور حجت قائم کرنے سے پہلے یا کسی جرم کے بغیر ان کو عذاب نہیں دیا گیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى: {ولكلِّ أمةٍ}: من الأمم الماضية {رسولٌ}: يدعوهم إلى توحيد الله ودينه. فإذا جاءهم {رسولُهم} بالآيات؛ صدَّقه بعضُهم وكذَّبه آخرون، فيقضي الله بينَهم بالقسط بنجاة المؤمنين وإهلاك المكذبين. {وهم لا يُظْلَمونَ}: بأن يعذَّبوا قبل إرسال الرسول وبيان الحجَّة، أو يعذَّبوا بغير جرمهم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔