تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ يونس (10) — آیت 21

وَ اِذَاۤ اَذَقۡنَا النَّاسَ رَحۡمَۃً مِّنۡۢ بَعۡدِ ضَرَّآءَ مَسَّتۡہُمۡ اِذَا لَہُمۡ مَّکۡرٌ فِیۡۤ اٰیَاتِنَا ؕ قُلِ اللّٰہُ اَسۡرَعُ مَکۡرًا ؕ اِنَّ رُسُلَنَا یَکۡتُبُوۡنَ مَا تَمۡکُرُوۡنَ ﴿۲۱﴾
اور جب ہم لوگوں کو کوئی رحمت چکھاتے ہیں، کسی تکلیف کے بعد، جو انھیں پہنچی ہو، تو اچانک ان کے لیے ہماری آیات کے بارے میں کوئی نہ کوئی چال ہوتی ہے۔ کہہ دے اللہ چال میں زیادہ تیز ہے۔ بے شک ہمارے بھیجے ہوئے لکھ رہے ہیں جو تم چال چلتے ہو۔ En
اور جب ہم لوگوں کو تکلیف پہنچنے کے بعد (اپنی) رحمت (سے آسائش) کا مزہ چکھاتے ہیں تو وہ ہماری آیتوں میں حیلے کرنے لگتے ہیں۔ کہہ دو کہ خدا بہت جلد حیلہ کرنے والا ہے۔ اور جو حیلے تم کرتے ہو ہمارے فرشتے ان کو لکھتے جاتے ہیں
En
اور جب ہم لوگوں کو اس امر کے بعد کہ ان پر کوئی مصیبت پڑ چکی ہو کسی نعمت کامزه چکھا دیتے ہیں تو وه فوراً ہی ہماری آیتوں کے بارے میں چالیں چلنے لگتے ہیں، آپ کہہ دیجئے کہ اللہ چال چلنے میں تم سے زیاده تیز ہے، بالیقین ہمارے فرشتے تمہاری سب چالوں کو لکھ رہے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَاِذَاۤ اَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَةً مِّنْۢ بَعْدِ ضَرَّآءَؔ مَسَّتْهُمْ اور جب چکھائیں ہم لوگوں کو مزا اپنی رحمت کا، ایک تکلیف کے بعد جو ان کو پہنچی تھی۔ مثلاً: مرض کے بعد صحت، تنگ دستی کے بعد فراخی اور خوف کے بعد امن تو وہ بھول جاتے ہیں کہ انھیں کیا تکلیف پہنچی تھی اور وہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ فراخی اور اس کی رحمت پر اس کا شکر ادا نہیں کرتے بلکہ وہ اپنی سازشوں اور سرکشی پر جمے رہتے ہیں۔
بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِذَا لَهُمْ مَّؔكْرٌ فِیْۤ اٰیَ٘اتِنَا اسی وقت بنانے لگیں وہ حیلے ہماری آیتوں میں یعنی وہ باطل میں کوشاں رہتے ہیں تاکہ اس کے ذریعے سے حق کو باطل ثابت کریں ﴿ قُ٘لِ اللّٰهُ اَسْرَعُ مَكْرًا کہہ دیجیے! اللہ حیلے بنانے (تدبیر کرنے) میں زیادہ تیز ہے کیونکہ بری چالوں کا وبال چال چلنے والے ہی پر پڑتا ہے۔ ان کے برے مقاصد انھی پر پلٹ جاتے ہیں اور وہ برے انجام سے محفوظ نہیں رہتے بلکہ فرشتے ان کے اعمال لکھتے جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کو محفوظ کر لیتا ہے پھر وہ ان کو ان اعمال کی پوری پوری جزا دے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يقول تعالى: {وإذا أذَقْنا الناس رحمةً من بعد ضرَّاء مسَّتهم}: كالصحة بعد المرض والغنى بعد الفقر والأمن بعد الخوف؛ نسوا ما أصابهم من الضرَّاء، ولم يشكُروا الله على الرخاء والرحمة، بل استمرُّوا في طغيانهم ومكرهم، ولهذا قال: {إذا لهم مكرٌ في آياتنا}؛ أي: يسعَوْن بالباطل ليبطلوا به الحق. {قل اللهُ أسرعُ مكراً}: فإنَّ المكرَ السيئ لا يحيق إلا بأهله؛ فمقصودهم منعكسٌ عليهم، ولم يسلموا من التَبِعَة، بل تكتب الملائكة عليهم ما يعملون، ويحصيه الله عليهم، ثم يجازيهم الله عليه أوفر الجزاء.