اور وہ کہتے ہیں اس پر اس کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہ اتاری گئی؟ سو کہہ دے غیب تو صرف اللہ کے پاس ہے، پس انتظار کرو، بے شک میں (بھی) تمھارے ساتھ انتظار کرنے والوں سے ہوں۔
En
اور کہتے ہیں کہ اس پر اس کے پروردگار کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نازل نہیں ہوئی۔ کہہ دو کہ غیب (کا علم) تو خدا کو ہے سو تم انتظار کرو۔ میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں
اور یہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ ان پر ان کے رب کی جانب سے کوئی نشانی کیوں نہیں نازل ہوتی؟ سو آپ فرما دیجئے کہ غیب کی خبر صرف اللہ کو ہے سو تم بھی منتظر رہو میں بھی تمہارے ساتھ منتظر ہوں
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَیَقُوْلُوْنَ ﴾”اور یہ کہتے ہیں۔“ یعنی لغزشیں تلاش کرنے اور جھٹلانے والے کہتے ہیں: ﴿ لَوْلَاۤاُنْزِلَعَلَیْهِاٰیَةٌمِّنْرَّبِّهٖ﴾”کیوں نہیں اتاری گئی اس پر کوئی آیت اس کے رب کی طرف سے“ یعنی وہ آیات جن کا وہ مطالبہ کرتے ہیں، مثلاً:وہ کہا کرتے تھے: ﴿ لَوْلَاۤاُنْزِلَاِلَیْهِمَلَكٌفَیَكُ٘وْنَمَعَهٗنَذِیْرًا﴾ (الفرقان:25؍7) ”اس کے پاس کوئی فرشتہ کیوں نہیں نازل کیا گیا جو ڈرانے کو اس کے ساتھ رہتا“ اور جیسے ان کا یہ قول ہے۔ ﴿ وَقَالُوْالَ٘نْنُّؤْمِنَلَكَحَتّٰىتَفْجُرَلَنَامِنَالْاَرْضِیَنْۢبـُوْعًا﴾ (بنی اسرائیل: 17؍90) ”اور انھوں نے کہا: ہم تم پر ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ تم ہمارے لیے زمین میں سے چشمہ جاری نہ کر دو۔“
﴿ فَقُلْ ﴾ جب وہ آپ سے کسی آیت کا مطالبہ کریں تو آپ کہہ دیجیے! ﴿ اِنَّمَاالْغَیْبُلِلّٰهِ ﴾”غیب کی بات تو اللہ ہی جانے“ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے علم کے ذریعے سے اپنے بندوں کے احوال کا احاطہ کیے ہوئے ہے، وہ اپنے علم اور انوکھی حکمت کے تقاضے کے مطابق ان کی تدبیر کرتا ہے۔ کسی حکم، کسی دلیل، کسی غایت و انتہا اور کسی تعلیل کی تدبیر میں کسی کا کوئی اختیار نہیں۔ ﴿ فَانْتَظِرُوْا١ۚاِنِّیْمَعَكُمْمِّنَالْ٘مُنْتَظِرِیْنَ ﴾”پس انتظار کرو، میں بھی تمھارے ساتھ انتظار کرتا ہوں “ یعنی ہر ایک دوسرے کے بارے میں منتظر رہے جس کا وہ اہل ہے اور دیکھے کہ کس کا انجام اچھا ہوتا ہے؟
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ويقولون}؛ أي: المكذبون المتعنِّتون: {لولا أنزِلَ عليه آيةٌ من ربِّه}؛ يعنون: آيات الاقتراح التي يعيِّنونها؛ كقولهم: {لولا أنزل إليه مَلَكٌ فيكونَ معه نذيرًا ... } الآيات، وكقولهم: {وقالوا لن نؤمنَ لك حتى تَفْجُرَ لنا من الأرض يَنبوعاً ... } الآيات. {فقل}: لهم إذا طلبوا منك آيةً: {إنما الغيبُ لله}؛ أي: هو المحيط علماً بأحوال العباد، فيدبِّرهم بما يقتضيه علمه فيهم وحكمته البديعة، وليس لأحدٍ تدبيرٌ في حكم ولا دليل ولا غاية ولا تعليل. {فانتظروا إني معكم من المنتظرين}؛ أي: كل ينتظر بصاحبه ما هو أهلٌ له فانظروا لمن تكون العاقبة.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔