تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ يونس (10) — آیت 18

وَ یَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مَا لَا یَضُرُّہُمۡ وَ لَا یَنۡفَعُہُمۡ وَ یَقُوۡلُوۡنَ ہٰۤؤُلَآءِ شُفَعَآؤُنَا عِنۡدَ اللّٰہِ ؕ قُلۡ اَتُنَبِّـُٔوۡنَ اللّٰہَ بِمَا لَا یَعۡلَمُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الۡاَرۡضِ ؕ سُبۡحٰنَہٗ وَ تَعٰلٰی عَمَّا یُشۡرِکُوۡنَ ﴿۱۸﴾
اور وہ اللہ کے سوا ان چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو نہ انھیں نقصان پہنچاتی ہیں اور نہ انھیں نفع دیتی ہیں اور کہتے ہیں یہ لوگ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں۔ کہہ دے کیا تم اللہ کو اس چیز کی خبر دیتے ہو جسے وہ نہ آسمانوں میں جانتا ہے اور نہ زمین میں؟ وہ پاک ہے اور بہت بلند ہے اس سے جو وہ شریک بناتے ہیں۔ En
اور یہ (لوگ) خدا کے سوا ایسی چیزوں کی پرستش کرتے ہیں جو نہ ان کا کچھ بگاڑ ہی سکتی ہیں اور نہ کچھ بھلا ہی کر سکتی ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ خدا کے پاس ہماری سفارش کرنے والے ہیں۔ کہہ دو کہ کیا تم خدا کو ایسی چیز بتاتے ہو جس کا وجود اسے نہ آسمانوں میں معلوم ہوتا ہے اور نہ زمین میں۔ وہ پاک ہے اور (اس کی شان) ان کے شرک کرنے سے بہت بلند ہے
En
اور یہ لوگ اللہ کے سوا ایسی چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو نہ ان کو ضرر پہنچا سکیں اور نہ ان کو نفع پہنچا سکیں اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے پاس ہمارے سفارشی ہیں۔ آپ کہہ دیجئے کہ کیا تم اللہ کو ایسی چیز کی خبر دیتے ہو جو اللہ تعالیٰ کو معلوم نہیں، نہ آسمانوں میں اور نہ زمین میں، وه پاک اور برتر ہے ان لوگوں کے شرک سے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَیَعْبُدُوْنَ اور پرستش کرتے ہیں یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کرنے والے مشرکین۔ ﴿مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَضُرُّهُمْ وَلَا یَنْفَعُهُمْ اللہ کے سوا، اس چیز کی جو ان کو نقصان پہنچا سکے نہ نفع یعنی ان کے معبودان باطل ان کو ذرہ بھر فائدہ نہیں پہنچا سکتے اور نہ ان سے کسی ضرر کو دور کر سکتے ہیں۔ ﴿ وَیَقُوْلُوْنَ اور وہ کہتے ہیں۔ ایسی بات جو دلیل سے بالکل خالی ہے۔ ﴿ هٰۤؤُلَآءِ شُفَعَآؤُنَا عِنْدَ اللّٰهِ یہ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں یعنی وہ ان معبودان باطل کی عبادت محض اس لیے کرتے ہیں تاکہ وہ انھیں اللہ تعالیٰ کے قریب کر دیں اور اللہ کے ہاں ان کی سفارش کریں۔ یہ ان کی اپنی طرف سے گھڑی ہوئی بات ہے۔
بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے اس عقیدے کا ابطال کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قُ٘لْ اَتُنَبِّـُٔوْنَ۠ اللّٰهَ بِمَا لَا یَعْلَمُ فِی السَّمٰوٰتِ وَلَا فِی الْاَرْضِ کہہ دیجیے! کیا تم اللہ کو بتلاتے ہو جو اس کو معلوم نہیں، آسمانوں میں اور زمین میں۔ یعنی اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جاننے والا ہے جس نے اپنے علم کے ذریعے سے آسمانوں اور زمین کی ہر چیز کا احاطہ کر رکھا ہے اس نے تمھیں آگاہ کیا ہے کہ اس کا کوئی شریک نہیں اور اس کے ساتھ کوئی معبود نہیں۔ پس اے مشرکو! کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ زمین و آسمان میں اللہ تعالیٰ کے شریک ہیں؟ کیا تم اللہ تعالیٰ کو ایسے معاملے کی خبر دے رہے ہو جو اللہ تعالیٰ سے مخفی ہے اور تم اسے جانتے ہو؟ کیا تم اللہ تعالیٰ سے زیادہ جانتے ہو؟ کیا اس عقیدے سے زیادہ باطل عقیدہ پایا جا سکتا ہے جو اس امر کا متضمن ہے کہ یہ گمراہ، جہال اور بیوقوف لوگ، اللہ رب العالمین سے زیادہ علم رکھتے ہیں؟ عقل مند شخص کے لیے اس عقیدے کا مجرد تصور ہی یہ جاننے کے لیے کافی ہے کہ یہ قطعی طور پر فاسد اور باطل عقیدہ ہے۔ ﴿سُبْحٰؔنَهٗ وَتَ٘عٰ٘لٰى عَمَّؔا یُشْرِكُوْنَؔ وہ پاک ہے اور ان کے شرک سے بہت بلند ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ اس بات سے پاک اور منزہ ہے کہ کوئی اس کا شریک یا نظیر ہو بلکہ اللہ تعالیٰ واحد، فرد اور بے نیاز ہے، آسمانوں اور زمین میں اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اس عالم علوی اور سفلی میں اللہ تعالیٰ کے سوا ہر معبود عقل، شرع اور فطرت کے اعتبار سے باطل ہے ﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَاَنَّ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهِ الْبَاطِلُ١ۙ وَاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْ٘عَلِیُّ الْكَبِیْرُ (لقمان: 31؍30) اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ ہی کی ذات برحق ہے اور جن کو یہ لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں وہ سب باطل ہیں اور اللہ ہی بلند اور بڑا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يقول تعالى: {ويعبُدون}؛ أي: المشركون المكذِّبون لرسول الله - صلى الله عليه وسلم - {من دونِ الله ما لا يضرُّهم ولا ينفعُهم}؛ أي: لا تملك لهم مثقال ذرة من النفع ولا تدفع عنهم شيئاً {ويقولون}: قولاً خالياً من البرهان: {هؤلاء شفعاؤنا عند الله}؛ أي: يعبدونهم ليقرِّبوهم إلى الله ويشفعوا لهم عنده، وهذا قول من تلقاء أنفسهم، وكلامٌ ابتكروه هم، ولهذا قال مبطلاً لهذا القول: {قل أتنبِّئون الله بما لا يعلم في السموات ولا في الأرض}؛ أي: الله تعالى هو العالم الذي أحاط علماً بجميع ما في السماوات والأرض، وقد أخبركم بأنَّه ليس له شريكٌ ولا إله معه؛ فأنتم يا معشر المشركين تزعُمون أنه يوجد له فيها شركاء، أفتخبرونه بأمر خفي عليه وعلمتموه؟! أأنتم أعلم أم الله؟! فهل يوجد قولٌ أبطلُ من هذا القول المتضمِّن أن هؤلاء الضلال الجهال السفهاء أعلم من رب العالمين؟! فليكتف العاقلُ بمجرَّد تصوُّر هذا القول؛ فإنه يجزم بفساده وبطلانه. {سبحانه وتعالى عما يشركونَ}؛ أي: تقدَّس وتنزَّه أن يكون له شريك أو نظير، بل هو الله الأحدُ الفردُ الصمدُ الذي لا إله في السماوات والأرض إلا هو، وكلُّ معبودٍ في العالم العلويِّ والسفليِّ سواه فإنه باطلٌ عقلاً وشرعاً وفطرةً، {ذلك بأنَّ الله هو الحقُّ وأن ما يدعون من دونه هو الباطل وأنَّ الله هو العليُّ الكبيرُ}.