تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {قُلْ اَتُنَبِّـُٔوْنَ۠ اللّٰهَ بِمَا لَا يَعْلَمُ …:} یعنی اللہ تعالیٰ آسمان و زمین کی ہر بات اور ہر چیز کو جانتا ہے، بلکہ وہی انھیں پیدا کرنے والا اور ہر لمحہ پالنے والا ہے، تو وہ کیسے بے خبر ہو سکتا ہے۔ اگر معاذ اللہ، تمھارے یہ بت یا زندہ و مردہ معبود اس کے شریک یا سفارشی ہوتے تو وہ انھیں بھی ضرور جانتا ہوتا، جب وہ ان میں سے کسی کے بھی شریک یا سفارشی ہونے سے انکار کر رہا ہے تو معلوم ہوا کہ ان کا کوئی وجود یا حقیقت نہیں، اب تمھارے ان کو شریک یا سفارشی اور نفع و نقصان پہنچانے والے ماننے پر اصرار کا مطلب یہی ہے کہ اللہ کو تو آسمان و زمین میں کوئی ایسی ہستی معلوم نہیں ہے مگر تم اسے وہ چیز بتا رہے ہو جو اس کے علم ہی میں نہیں۔ معلوم ہوا تمھارا یہ کہنا اور اس کی بنیاد پر کیے جانے والے تمھارے سب افعال بالکل بے ہودہ اور لغو ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان مشرکوں کے شرک سے ہر طرح سے پاک اور بے حد بلند ہے، وہ نہ کسی مددگار کا محتاج ہے نہ کسی سفارشی کے ہاتھوں مجبور۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
سنو پہلے سب کے سب لوگ اسلام پر تھے۔ آدم علیہ السلام سے لے کر نوح علیہ السلام تک دس صدیاں وہ سب لوگ مسلمان تھے۔ پھر اختلاف رونما ہوا اور لوگوں نے تیری میری پرستش شروع کر دی۔ اللہ تعالیٰ نے رسولوں کے سلسلوں کو جاری کیا تاکہ «لِّيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَن بَيِّنَةٍ وَيَحْيَىٰ مَنْ حَيَّ عَن بَيِّنَةٍ» ۱؎ [8-الأنفال:42] ’ ثبوت و دلیل کے بعد جس کا جی چاہے زندہ رہے جس کا جی چاہے مر جائے ‘۔
چونکہ اللہ کی طرف سے فیصلے کا دن مقرر ہے۔ حجت تمام کرنے سے پہلے عذاب نہیں ہوتا اس لیے موت مؤخر ہے۔ ورنہ ابھی ہی حساب چکا دیا جاتا۔ مومن کامیاب رہتے اور کافر ناکام۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى: {ويعبُدون}؛ أي: المشركون المكذِّبون لرسول الله - صلى الله عليه وسلم - {من دونِ الله ما لا يضرُّهم ولا ينفعُهم}؛ أي: لا تملك لهم مثقال ذرة من النفع ولا تدفع عنهم شيئاً {ويقولون}: قولاً خالياً من البرهان: {هؤلاء شفعاؤنا عند الله}؛ أي: يعبدونهم ليقرِّبوهم إلى الله ويشفعوا لهم عنده، وهذا قول من تلقاء أنفسهم، وكلامٌ ابتكروه هم، ولهذا قال مبطلاً لهذا القول: {قل أتنبِّئون الله بما لا يعلم في السموات ولا في الأرض}؛ أي: الله تعالى هو العالم الذي أحاط علماً بجميع ما في السماوات والأرض، وقد أخبركم بأنَّه ليس له شريكٌ ولا إله معه؛ فأنتم يا معشر المشركين تزعُمون أنه يوجد له فيها شركاء، أفتخبرونه بأمر خفي عليه وعلمتموه؟! أأنتم أعلم أم الله؟! فهل يوجد قولٌ أبطلُ من هذا القول المتضمِّن أن هؤلاء الضلال الجهال السفهاء أعلم من رب العالمين؟! فليكتف العاقلُ بمجرَّد تصوُّر هذا القول؛ فإنه يجزم بفساده وبطلانه. {سبحانه وتعالى عما يشركونَ}؛ أي: تقدَّس وتنزَّه أن يكون له شريك أو نظير، بل هو الله الأحدُ الفردُ الصمدُ الذي لا إله في السماوات والأرض إلا هو، وكلُّ معبودٍ في العالم العلويِّ والسفليِّ سواه فإنه باطلٌ عقلاً وشرعاً وفطرةً، {ذلك بأنَّ الله هو الحقُّ وأن ما يدعون من دونه هو الباطل وأنَّ الله هو العليُّ الكبيرُ}.