کہہ دے اے لوگو! بے شک تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے حق آگیا ہے، تو جو سیدھے راستے پر آیا تو وہ اپنی جان ہی کے لیے راستے پر آتا ہے اور جو گمراہ ہوا وہ اسی پر گمراہ ہوتا ہے اور میں تم پر ہرگز کوئی نگران نہیں ہوں۔
En
کہہ دو کہ لوگو تمہارے پروردگار کے ہاں سے تمہارے پاس حق آچکا ہے تو جو کوئی ہدایت حاصل کرتا ہے تو ہدایت سے اپنے ہی حق میں بھلائی کرتا ہے۔ اور جو گمراہی اختیار کرتا ہے تو گمراہی سے اپنا ہی نقصان کرتا ہے۔ اور میں تمہارا وکیل نہیں ہوں
آپ کہہ دیجئے کہ اے لوگو! تمہارے پاس حق تمہارے رب کی طرف سے پہنچ چکا ہے، اس لیے جو شخص راه راست پر آجائے سو وه اپنے واسطے راه راست پر آئے گا اور جو شخص بے راه رہے گا تو اس کا بے راه ہونا اسی پر پڑے گا اور میں تم پر مسلط نہیں کیا گیا
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
بنابریں، جب اللہ تعالیٰ نے واضح دلیل بیان کردی تو اس کے بعد فرمایا: ﴿ قُ٘لْ ﴾ چونکہ دلیل و برہان واضح ہوگئی اس لیے اے رسول فرما دیجیے! ﴿ یٰۤاَیُّهَاالنَّاسُقَدْجَآءَكُمُالْحَقُّمِنْرَّبِّكُمْ﴾”اے لوگو! تمھارے رب کے ہاں سے تمھارے پاس حق آچکا ہے۔“ یعنی تمھارے پاس سچی خبر آگئی ہے جس کی تائید دلائل و براہین سے ہوتی ہے جس میں کسی لحاظ سے بھی کوئی شک نہیں اور یہ خبر تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے پہنچی ہے، جس کی تمھارے لیے سب سے بڑی ربوبیت یہ ہے کہ اس نے تم پر یہ قرآن نازل کیا، جو ہر چیز کو کھول کھول کر بیان کرتا ہے یہ قرآن مختلف انواع کے احکام، مطالب الہیہ اور اخلاق حسنہ پر مشتمل ہے جن میں تمھاری تربیت کا بہترین سامان موجود ہے۔ یہ تم پر اللہ تعالیٰ کا احسان ہے۔ پس گمراہی سے ہدایت کا راستہ واضح ہوگیا اور کسی کے لیے کوئی شبہ باقی نہ رہا۔ ﴿ فَ٘مَنِاهْتَدٰؔى ﴾”اب جو کوئی راہ پر آئے“ یعنی جس نے اللہ تعالیٰ کی راہ نمائی کے ذریعے سے راہ ہدایت اپنا لی۔ وہ یوں کہ اس نے حق معلوم کر لیا اور پھر اسے اچھی طرح سمجھ لیا اور دیگر ہر چیز پر اسے ترجیح دی ﴿ فَاِنَّمَایَهْتَدِیْلِنَفْسِهٖ﴾”پس وہ راہ پاتا ہے اپنے بھلے کو“ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے بے نیاز ہے۔ بندوں کے اعمال کے ثمرات انھی کی طرف لوٹتے ہیں ﴿ وَمَنْضَلَّ ﴾”اور جو گمراہی اختیار کرتا ہے۔“ یعنی جو حق کے علم یا اس پر عمل سے روگردانی کر کے ہدایت کی راہ سے بھٹک جائے ﴿ فَاِنَّمَایَضِلُّعَلَیْهَا﴾”تو وہ بہکا پھرے گا اپنے برے کو“ یعنی وہ اپنے لیے گمراہی اختیار کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا، وہ صرف اپنے آپ ہی کو نقصان پہنچاتا ہے۔
﴿ وَمَاۤاَنَاعَلَیْكُمْبِوَؔكِیْلٍ﴾”اور میں تم پر داروغہ نہیں “ کہ تمھارے اعمال کی نگرانی کروں اور ان کا حساب کتاب رکھوں۔ میں تو تمھیں کھلا ڈرانے والا ہوں اور اللہ تعالیٰ تمھارا نگران اور وکیل ہے۔ جب تک تم اس مہلت کی مدت میں ہو، اپنے آپ پر نظر رکھو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: {قل}: يا أيها الرسول لما تبيَّن البرهان: {يا أيها الناس قد جاءكم الحقُّ من ربِّكم}؛ أي: الخبر الصادق المؤيَّد بالبراهين الذي لا شكَّ فيه بوجهٍ من الوجوه، وهو واصلٌ إليكم من ربِّكم، الذي من أعظم تربيته لكم أن أنزل إليكم هذا القرآن، الذي فيه تبيانٌ لكلِّ شيء، وفيه من أنواع الأحكام والمطالب الإلهية والأخلاق المَرْضِيَّة ما فيه أعظم تربيةٍ لكم وإحسانٍ منه إليكم؛ فقد تبيَّن الرشد من الغي، ولم يبقَ لأحدٍ شبهة. {فمن اهتدى}: بهدى الله؛ بأن علم الحقَّ وتفهَّمه وآثره على غيره فلنفسه. والله تعالى غنيٌّ عن عباده، وإنَّما ثمرة أعمالهم راجعةٌ إليهم. {ومن ضلَّ}: عن الهدى؛ بأن أعرض عن العلم بالحقِّ أو عن العمل به، {فإنما يَضِلُّ عليها}: ولا يضرُّ الله شيئاً فلا يضر إلا نفسه. {وما أنا عليكم بوكيل}: فأحفظُ أعمالكم وأحاسبكم عليها، وإنَّما أنا لكم نذيرٌ مبينٌ، والله عليكم وكيلٌ؛ فانظروا لأنفسكم ما دمتم في مدة الإمهال.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔