ترجمہ و تفسیر — سورۃ يونس (10) — آیت 108

قُلۡ یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ قَدۡ جَآءَکُمُ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّکُمۡ ۚ فَمَنِ اہۡتَدٰی فَاِنَّمَا یَہۡتَدِیۡ لِنَفۡسِہٖ ۚ وَ مَنۡ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیۡہَا ۚ وَ مَاۤ اَنَا عَلَیۡکُمۡ بِوَکِیۡلٍ ﴿۱۰۸﴾ؕ
کہہ دے اے لوگو! بے شک تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے حق آگیا ہے، تو جو سیدھے راستے پر آیا تو وہ اپنی جان ہی کے لیے راستے پر آتا ہے اور جو گمراہ ہوا وہ اسی پر گمراہ ہوتا ہے اور میں تم پر ہرگز کوئی نگران نہیں ہوں۔ En
کہہ دو کہ لوگو تمہارے پروردگار کے ہاں سے تمہارے پاس حق آچکا ہے تو جو کوئی ہدایت حاصل کرتا ہے تو ہدایت سے اپنے ہی حق میں بھلائی کرتا ہے۔ اور جو گمراہی اختیار کرتا ہے تو گمراہی سے اپنا ہی نقصان کرتا ہے۔ اور میں تمہارا وکیل نہیں ہوں
En
آپ کہہ دیجئے کہ اے لوگو! تمہارے پاس حق تمہارے رب کی طرف سے پہنچ چکا ہے، اس لیے جو شخص راه راست پر آجائے سو وه اپنے واسطے راه راست پر آئے گا اور جو شخص بے راه رہے گا تو اس کا بے راه ہونا اسی پر پڑے گا اور میں تم پر مسلط نہیں کیا گیا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 108){وَ مَاۤ اَنَا عَلَيْكُمْ بِوَكِيْلٍ:} یعنی میں تمھارا ذمہ دار نہیں ہوں کہ اگر تم سیدھی راہ پر نہ آؤ تو مجھ سے باز پرس ہو۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

18۔ 1 حق سے مراد قرآن اور دین اسلام ہے، جس میں توحید الٰہی اور رسالت محمدیہ پر ایمان نہایت ضروری ہے۔ 18۔ 2 یعنی اس کا فائدہ اسی کو ہوگا کہ قیامت والے دن اللہ کے عذاب سے بچ جائے گا۔ 18۔ 3 یعنی اس کا نقصان اور وبال اسی پر پڑے گا کہ قیامت کو جہنم کی آگ میں جلے گا۔ گویا کوئی ہدایت کا راستہ اپنائے گا تو، تو اس سے کوئی اللہ کی طاقت میں اضافہ نہیں ہوجائے گا اور اگر کوئی کفر اور ضلالت کو اختیار کرے گا تو اس سے اللہ کی حکومت و طاقت میں کوئی فرق واقع نہیں ہوجائے گا۔ گویا ایمان و ہدایت کی ترغیب اور کفر و ضلالت سے بچنے کی تاکید و ترتیب، دونوں سے مقصد انسانوں ہی کی بھلائی اور خیر خواہی ہے۔ اللہ کی اپنی کوئی غرض نہیں۔ 18۔ 4 یعنی یہ ذمہ داری مجھے نہیں سونپی گئی ہے کہ میں ہر صورت میں تمہیں مسلمان بنا کر چھوڑوں بلکہ میں تو صرف بشیر اور نذیر اور مبلغ اور داعی ہوں۔ میرا کام صرف اہل ایمان کو خوشخبری دینا، نافرمانوں کو اللہ کے عذاب اور اس کے مواخذے سے ڈرانا اور اللہ کے پیغام کی دعوت و تبلیغ ہے۔ کوئی اس دعوت کو مان کر ایمان لاتا ہے تو ٹھیک ہے، کوئی نہیں مانتا تو میں اس بات کا مکلف نہیں ہوں کہ اس سے زبردستی منوا کر چھوڑوں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

108۔ آپ کہہ دیجئے: لوگو! تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے حق آچکا، اب جو راہ راست [116] اختیار کرتا ہے تو یہ راست روی اس کے اپنے ہی لئے مفید ہے۔ اور اگر کوئی گمراہ ہوتا ہے تو اس کی گمراہی کا وبال بھی اسی پر ہے اور میں تمہارا وکیل نہیں ہوں
[116] ہدایت کے تین اصول، ہدایت قبول کرنے کے فوائد:۔
گویا مندرجہ بالا تین آیات میں مجملاً ہدایت کا مفہوم بیان کر دیا گیا ہے جو درج ذیل اصولوں پر مشتمل ہے ہر طرح کے شرک سے مکمل اجتناب، خالصتاً اللہ تعالیٰ کی ذات پر بھروسہ رکھنا اور اسے نفع و نقصان کا مالک سمجھنا اور منزل من اللہ شریعت پر ادھر ادھر دیکھے بغیر پوری یکسوئی کے ساتھ گامزن ہو جانا اور ایسی ہدایت اختیار کرنے والے کو دنیا میں تو یہ فائدہ پہنچتا ہے کہ زندگی کے ہر شعبہ کے لیے اسے مکمل رہنمائی حاصل ہو جاتی ہے اور اسے بیرونی نظریات اور فلسفوں کی ضرورت نہیں رہتی اور زندگی ذمہ دارانہ اور پرسکون طور پر گزرتی ہے اور آخرت میں یقیناً فلاح نصیب ہو گی اور جو شخص ایسی ہدایت کو اختیار نہیں کرتا وہ ساری زندگی ادھر ادھر لڑھکتا ہی رہتا ہے اسے دنیا تو اتنی مل ہی جاتی ہے جتنی اس کے نصیب میں ہوتی ہے مگر سکون نہیں مل سکتا اور آخرت میں اس کی تباہی و بربادی یقینی ہے اور اس تباہی کا ذمہ دار وہ خود ہوتا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

نافرمان کا اپنا نقصان ہے ٭٭
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے حبیب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ ’ لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خبردار کریں کہ جو میں لایا ہوں، وہ اللہ کی طرف سے ہے۔ بلا شک و شبہ وہ نرا حق ہے جو اس کی اتباع کرے گا وہ اپنے نفع کو جمع کرے گا۔ اور جو اس سے بھٹک جائے گا وہ اپنا ہی نقصان کرے گا۔ میں تم پر وکیل نہیں ہوں کہ تمہیں ایمان پر مجبور کروں۔ میں تو کہنے سننے والا ہوں۔ ہادی صرف اللہ تعالیٰ ہے ‘۔
’ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو خود بھی میرے احکام اور وحی کا تابعدار رہ اور اسی پر مضبوطی سے جما رہ۔ لوگوں کی مخالفت کی کوئی پرواہ نہ کر۔ ان کی ایذاؤں پر صبر و تحمل سے کام لے یہاں تک کہ خود اللہ تجھ میں اور ان میں فیصلہ کر دے۔ وہ بہترین فیصلے کرنے والا ہے جس کا کوئی فیصلہ عدل سے حکمت سے خالی نہیں ہوتا ‘۔
ابو یعلیٰ میں ہے کہ { سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بوڑھے کیسے ہو گئے؟ فرمایا: { مجھے سورۃ ھود، سورۃ الواقعہ، سورۃ عم، اور سورۃ کورت نے بوڑھا کر دیا } }۔ [مسند ابویعلیٰ107/1:سند منقطع:حدیث صحیح]‏‏‏‏۔
ترمذی کی اس حدیث میں سورۃ ھود، سورۃ الواقعہ، سورۂ والمرسلات، سورۃ النباء اور سورۃ الشمس کورت کا ذکر ہے [سنن ترمذي3297،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏۔
ایک روایت میں ہے، { سورۃ ھود اور اس جیسی اور سورتوں نے مجھے بوڑھا کر دیا }۔ طبرانی میں ہے، { مجھے سورۃ ھود نے اور اس جیسی سورتوں مثلاً سورۃ الواقعہ، الحاقہ، اذالشمس کورت نے بوڑھا کر دیا ہے } [طبرانی کبیر:5804:سخت ضعیف]‏‏‏‏۔
ایک روایت میں سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کے اس سوال کے جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا صرف دو سورتوں کا ذکر کرنا مروی ہے۔ سورۂ ھود اور سورۂ واقعہ۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:10091:سخت ضعیف]‏‏‏‏

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

بنابریں، جب اللہ تعالیٰ نے واضح دلیل بیان کردی تو اس کے بعد فرمایا: ﴿ قُ٘لْ چونکہ دلیل و برہان واضح ہوگئی اس لیے اے رسول فرما دیجیے! ﴿ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَكُمُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ اے لوگو! تمھارے رب کے ہاں سے تمھارے پاس حق آچکا ہے۔ یعنی تمھارے پاس سچی خبر آگئی ہے جس کی تائید دلائل و براہین سے ہوتی ہے جس میں کسی لحاظ سے بھی کوئی شک نہیں اور یہ خبر تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے پہنچی ہے، جس کی تمھارے لیے سب سے بڑی ربوبیت یہ ہے کہ اس نے تم پر یہ قرآن نازل کیا، جو ہر چیز کو کھول کھول کر بیان کرتا ہے یہ قرآن مختلف انواع کے احکام، مطالب الہیہ اور اخلاق حسنہ پر مشتمل ہے جن میں تمھاری تربیت کا بہترین سامان موجود ہے۔ یہ تم پر اللہ تعالیٰ کا احسان ہے۔ پس گمراہی سے ہدایت کا راستہ واضح ہوگیا اور کسی کے لیے کوئی شبہ باقی نہ رہا۔ ﴿ فَ٘مَنِ اهْتَدٰؔى اب جو کوئی راہ پر آئے یعنی جس نے اللہ تعالیٰ کی راہ نمائی کے ذریعے سے راہ ہدایت اپنا لی۔ وہ یوں کہ اس نے حق معلوم کر لیا اور پھر اسے اچھی طرح سمجھ لیا اور دیگر ہر چیز پر اسے ترجیح دی ﴿ فَاِنَّمَا یَهْتَدِیْ لِنَفْسِهٖ پس وہ راہ پاتا ہے اپنے بھلے کو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے بے نیاز ہے۔ بندوں کے اعمال کے ثمرات انھی کی طرف لوٹتے ہیں ﴿ وَمَنْ ضَلَّ اور جو گمراہی اختیار کرتا ہے۔ یعنی جو حق کے علم یا اس پر عمل سے روگردانی کر کے ہدایت کی راہ سے بھٹک جائے ﴿ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْهَا تو وہ بہکا پھرے گا اپنے برے کو یعنی وہ اپنے لیے گمراہی اختیار کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا، وہ صرف اپنے آپ ہی کو نقصان پہنچاتا ہے۔
﴿ وَمَاۤ اَنَا عَلَیْكُمْ بِوَؔكِیْلٍ اور میں تم پر داروغہ نہیں کہ تمھارے اعمال کی نگرانی کروں اور ان کا حساب کتاب رکھوں۔ میں تو تمھیں کھلا ڈرانے والا ہوں اور اللہ تعالیٰ تمھارا نگران اور وکیل ہے۔ جب تک تم اس مہلت کی مدت میں ہو، اپنے آپ پر نظر رکھو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: {قل}: يا أيها الرسول لما تبيَّن البرهان: {يا أيها الناس قد جاءكم الحقُّ من ربِّكم}؛ أي: الخبر الصادق المؤيَّد بالبراهين الذي لا شكَّ فيه بوجهٍ من الوجوه، وهو واصلٌ إليكم من ربِّكم، الذي من أعظم تربيته لكم أن أنزل إليكم هذا القرآن، الذي فيه تبيانٌ لكلِّ شيء، وفيه من أنواع الأحكام والمطالب الإلهية والأخلاق المَرْضِيَّة ما فيه أعظم تربيةٍ لكم وإحسانٍ منه إليكم؛ فقد تبيَّن الرشد من الغي، ولم يبقَ لأحدٍ شبهة. {فمن اهتدى}: بهدى الله؛ بأن علم الحقَّ وتفهَّمه وآثره على غيره فلنفسه. والله تعالى غنيٌّ عن عباده، وإنَّما ثمرة أعمالهم راجعةٌ إليهم. {ومن ضلَّ}: عن الهدى؛ بأن أعرض عن العلم بالحقِّ أو عن العمل به، {فإنما يَضِلُّ عليها}: ولا يضرُّ الله شيئاً فلا يضر إلا نفسه. {وما أنا عليكم بوكيل}: فأحفظُ أعمالكم وأحاسبكم عليها، وإنَّما أنا لكم نذيرٌ مبينٌ، والله عليكم وكيلٌ؛ فانظروا لأنفسكم ما دمتم في مدة الإمهال.