تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ يونس (10) — آیت 101

قُلِ انۡظُرُوۡا مَاذَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ وَ مَا تُغۡنِی الۡاٰیٰتُ وَ النُّذُرُ عَنۡ قَوۡمٍ لَّا یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۱۰۱﴾
کہہ تم دیکھو آسمانوں اور زمین میں کیا کچھ موجود ہے۔ اور نشانیاں اور ڈرانے والی چیزیں ان لوگوں کے کام نہیں آتیں جو ایمان نہیں لاتے۔ En
(ان کفار سے) کہو دیکھو تو زمین اور آسمانوں میں کیا کچھ ہے۔ مگر جو لوگ ایمان نہیں رکھتے ان کی نشانیاں اور ڈرواے کچھ کام نہیں آتے
En
آپ کہہ دیجئے کہ تم غور کرو کہ کیا کیا چیزیں آسمانوں میں اور زمین میں ہیں اور جو لوگ ایمان نہیں ﻻتے ان کو نشانیاں اور دھمکیاں کچھ فائده نہیں پہنچاتیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو دعوت دیتا ہے کہ وہ آسمانوں اور زمین میں غور کریں اور اس سے مراد یہ ہے کہ تفکر اور عبرت کی نظر سے آسمان کو دیکھیں، ان میں جو کچھ موجود ہے اس میں تدبر کریں اور بصیرت حاصل کریں۔ ان میں اہل ایمان کے لیے نشانیاں اور اہل ایقان کے لیے عبرت ہے جو اس پر دلالت کرتی ہیں کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی معبود محمود ہے، وہی صاحب جلال واکرام اور عظیم اسماء و صفات کا مالک ہے۔ ﴿وَمَا تُغْنِی الْاٰیٰتُ وَالنُّذُرُ عَنْ قَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ اور کچھ کام نہیں آتیں نشانیاں اور ڈرانے والے ان لوگوں کو جو ایمان لانے والے نہیں کیونکہ یہ لوگ اپنے اعراض اور عناد کی وجہ سے آیات الٰہی سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يدعو تعالى عباده إلى النظر لما في السماوات والأرض، والمراد بذلك نظر الفكر والاعتبار والتأمُّل لما فيها وما تحتوي عليه والاستبصار؛ فإن في ذلك لآياتٍ لقوم يؤمنون وعبراً لقوم يوقنون، تدلُّ على أنَّ الله وحده المعبود المحمود ذو الجلال والإكرام والأسماء والصفات العظام، {وما تُغني الآياتُ والنُّذُر عن قوم لا يؤمنون}؛ فإنهم لا ينتفعون بالآيات؛ لإعراضهم وعنادهم.