تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ يونس (10) — آیت 100

وَ مَا کَانَ لِنَفۡسٍ اَنۡ تُؤۡمِنَ اِلَّا بِاِذۡنِ اللّٰہِ ؕ وَ یَجۡعَلُ الرِّجۡسَ عَلَی الَّذِیۡنَ لَا یَعۡقِلُوۡنَ ﴿۱۰۰﴾
اورکسی شخص کے لیے ممکن نہیں کہ ایمان لائے مگر اللہ کے اذن سے اور وہ گندگی ان لوگوں پر ڈالتا ہے جو نہیں سمجھتے۔ En
حالانکہ کسی شخص کو قدرت نہیں ہے کہ خدا کے حکم کے بغیر ایمان لائے۔ اور جو لوگ بےعقل ہیں ان پر وہ (کفر وذلت کی) نجاست ڈالتا ہے
En
حاﻻنکہ کسی شخص کا ایمان ﻻنا اللہ کے حکم کے بغیر ممکن نہیں۔ اور اللہ تعالیٰ بے عقل لوگوں پر گندگی ڈال دیتا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَمَا كَانَ لِنَفْ٘سٍ اَنْ تُؤْمِنَ اِلَّا بِـاِذْنِ اللّٰهِ اور کسی سے نہیں ہو سکتا کہ وہ ایمان لائے مگر اللہ کے حکم سے یعنی اللہ تعالیٰ کے ارادہ و مشیت اور اس کے قدری و شرعی حکم سے۔ پس مخلوق میں سے جو اس کے قبول کرنے کے قابل ہوتا ہے تو ایمان اس کے پاس پھلتا پھولتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو توفیق سے نوازتا اور اس کی راہ نمائی کرتا ہے۔ ﴿ وَیَجْعَلُ الرِّجْسَ اور ڈالتا ہے وہ گندگی یعنی شر اور گمراہی ﴿ عَلَى الَّذِیْنَ لَا یَعْقِلُوْنَؔ ان لوگوں پر جو سوچتے نہیں یعنی جو اللہ تعالیٰ کے اوامر و نواہی اور اس کے نصائح و مواعظ پر کان نہیں دھرتے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وما كان لنفس أن تؤمنَ إلاَّ بإذنِ الله}: بإرادته ومشيئته وإذنه القَدَرِيِّ الشرعيِّ؛ فمن كان من الخَلْقِ قابلاً لذلك يزكو عنده الإيمان؛ وفَّقه وهداه، {ويجعلُ الرجسَ}؛ أي: الشرَّ والضلال {على الذين لا يعقلِونَ}: عن الله أوامرَهُ ونواهيه، ولا يُلقون بالاً لنصائحه ومواعظه.