ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الملك (67) — آیت 27

فَلَمَّا رَاَوۡہُ زُلۡفَۃً سِیۡٓـَٔتۡ وُجُوۡہُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَ قِیۡلَ ہٰذَا الَّذِیۡ کُنۡتُمۡ بِہٖ تَدَّعُوۡنَ ﴿۲۷﴾
پس جب وہ اس کو قریب دیکھیں گے تو ان لوگوں کے چہرے بگڑ جائیں گے جنھوں نے انکار کیا اور کہا جائے گا یہی ہے وہ جو تم مانگا کرتے تھے۔ En
سو جب وہ دیکھ لیں گے کہ وہ (وعدہ) قریب آگیا تو کافروں کے منہ برے ہوجائیں گے اور (ان سے) کہا جائے گا کہ یہ وہی ہے جس کے تم خواستگار تھے
En
جب یہ لوگ اس وعدے کو قریب تر پالیں گے اس وقت ان کافروں کے چہرے بگڑ جائیں گے اور کہہ دیا جائے گا کہ یہی ہے جسے تم طلب کیا کرتے تھے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

27۔ پھر جب وہ اس (عذاب) کو نزدیک دیکھ لیں گے تو ان کافروں کے چہرے بگڑ جائیں گے [30] اور انہیں کہا جائے گا کہ یہی وہ چیز ہے جو تم مانگا کرتے تھے
[30] یعنی اس وقت تو تم قیامت اور بعث بعد الموت کا مذاق اڑاتے اور طنزیں کرتے ہو مگر جب اسے واقع ہوتے دیکھ لو گے تو تمہاری کیفیت وہی ہو گی جو ایک پھانسی کے مجرم کو تختہ دار دیکھنے سے طاری ہو جاتی ہے۔ چہرے کا حلیہ بگڑ جائے گا اور ہوائیاں اڑنے لگیں گی۔ اس وقت فرشتے تمہیں مخاطب کر کے کہیں گے یہ ہے قیامت کا دن جس کے لئے تم جلدی مچایا کرتے تھے کیا اب بھی تمہیں یقین آیا ہے یا نہیں؟