(آیت 27) {فَلَمَّارَاَوْهُزُلْفَةًسِيْٓـَٔتْ …: ”زُلْفَةً“”زَلَفَيَزْلُفُ“} (ن) سے اسم مصدر بمعنی اسم فاعل ہے، قریب۔ {”تَدَّعُوْنَ“”دَعَايَدْعُوْ“} کے باب افتعال سے فعل مضارع ہے، جس میں تائے افتعال کو دال سے بدل کر دال کو دال میں ادغام کر دیا ہے۔ اب وہ جس قیامت کو مذاق سمجھ رہے ہیں اور جس کا مطالبہ بڑے دھڑلے سے بار بار کر رہے ہیں، جب قریب آتی ہوئی دیکھیں گے تو سب ہنسی مذاق اور شیخی شوخی بھول جائیں گے، خوف اور دہشت سے ان کے چہرے بگڑ جائیں گے اور کہا جائے گا یہی ہے وہ قیامت جس کا تم مطالبہ کیا کرتے تھے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
27۔ 1 یعنی ذلت اور ہولناکی اور دہشت سے ان کے چہروں پر ہوائیاں اڑ رہی ہونگی۔ جس کو دوسرے مقام پر چہروں کے سیاہ ہونے سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یعنی یہ عذاب جو تم دیکھ رہے ہو وہی ہے جسے تم دنیا میں جلد طلب کرتے تھے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
27۔ پھر جب وہ اس (عذاب) کو نزدیک دیکھ لیں گے تو ان کافروں کے چہرے بگڑ جائیں گے [30] اور انہیں کہا جائے گا کہ یہی وہ چیز ہے جو تم مانگا کرتے تھے
[30] یعنی اس وقت تو تم قیامت اور بعث بعد الموت کا مذاق اڑاتے اور طنزیں کرتے ہو مگر جب اسے واقع ہوتے دیکھ لو گے تو تمہاری کیفیت وہی ہو گی جو ایک پھانسی کے مجرم کو تختہ دار دیکھنے سے طاری ہو جاتی ہے۔ چہرے کا حلیہ بگڑ جائے گا اور ہوائیاں اڑنے لگیں گی۔ اس وقت فرشتے تمہیں مخاطب کر کے کہیں گے یہ ہے قیامت کا دن جس کے لئے تم جلدی مچایا کرتے تھے کیا اب بھی تمہیں یقین آیا ہے یا نہیں؟
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
کفار کی تکذیب اور اس بنا پر ان کے فریب کا محل و مقام اس وقت تک ہے جب تک کہ وہ اس دنیا میں ہیں، جب جزا و سزا کا دن ہو گا اور وہ عذاب کو ﴿زُلْفَةً﴾ اپنے قریب دیکھیں گے تو یہ انھیں بہت برا لگے گا اور انھیں خوف زدہ کر دے گا، ان کے چہرے بدل جائیں گے، ان کی تکذیب پر انھیں زجر و توبیخ کی جائے گی اور ان سے کہا جائے گا”یہ وہی ہے جس کی تم تکذیب کرتے تھے۔ آج تم نے اسے عیاں دیکھ لیا ہے اور تمام معاملہ تمھارے سامنے ظاہر ہو گیا ہے، تمھارے تمام اسباب منقطع ہو گئے ہیں اور اب عذاب بھگتنے کے سوا کچھ باقی نہیں۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يعني أنَّ محلَّ تكذيب الكفار وغرورهم به حين كانوا في الدُّنيا؛ فإذا كان يوم الجزاء، ورأوا العذاب منهم {زُلْفَةً}؛ أي: قريباً؛ ساءهم ذلك وأفظعهم وأقلقهم ، فتغيَّرت لذلك وجوهُهم، ووُبِّخوا على تكذيبهم، وقيل لهم: {هذا الذي كنتُم به تَدَّعونَ}: فاليوم رأيتموه عياناً، وانْجلى لكم الأمر، وتقطَّعت بكم الأسباب، ولم يبقَ إلاَّ مباشرة العذاب.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔