120۔ تم ظاہر گناہوں کو بھی چھوڑو [125] اور چھپے گناہوں کو بھی۔ جو لوگ گناہ کے کام کرتے ہیں انہیں جلد ہی اس کی سزا مل کے رہے گی
[125] ظاہری گناہ کیا ہیں اور باطنی کیا؟
ربط مضمون کے لحاظ سے تو اس فقرہ کا مطلب یہ ہو گا کہ ان مشرکوں کے بہکانے پر نہ ظاہراً کوئی عمل کرو اور نہ دل میں کسی قسم کا شک و شبہ رکھو تاہم یہ حکم عام ہے۔ ظاہری گناہوں سے مراد ایسے گناہ ہیں جنہیں دوسرے لوگ دیکھ سکیں اور باطنی گناہ وہ ہیں جنہیں دیکھا نہ جا سکے جیسے کفر اور شرک کا عقیدہ حسد، بغض، بخل، تکبر وغیرہ جن کا تعلق دل سے ہوتا ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔