(آیت 120) {وَذَرُوْاظَاهِرَالْاِثْمِوَبَاطِنَهٗ ……:} یعنی حلال و حرام صرف کھانے کی چیزوں میں منحصر نہیں ہے، بلکہ ہر ظاہر و باطن گناہ کو چھوڑنا ضروری ہے۔ شاہ عبدالقادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”یعنی کافروں کے بہکانے پر نہ ظاہر میں عمل کرو اور نہ دل میں شبہ رکھو۔“(موضح) علماء نے لکھا ہے کہ ظاہر گناہ وہ ہیں جو ہاتھ پاؤں سے کیے جائیں، جیسے چوری، زنا وغیرہ اور چھپے گناہ وہ ہیں جن کے کرنے کا دل میں عزم ہو، یا جو عقیدے سے تعلق رکھتے ہوں، جیسے کفر و شرک اور نفاق وغیرہ، یا جن گناہوں کا نقصان عام لوگوں پر واضح ہو وہ ظاہر گناہ کہلاتے ہیں اور جن کے نقصان سے چند مخصوص آدمیوں کے سوا دوسرے واقف نہ ہوں وہ باطن کہلاتے ہیں۔ (المنار)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
120۔ تم ظاہر گناہوں کو بھی چھوڑو [125] اور چھپے گناہوں کو بھی۔ جو لوگ گناہ کے کام کرتے ہیں انہیں جلد ہی اس کی سزا مل کے رہے گی
[125] ظاہری گناہ کیا ہیں اور باطنی کیا؟
ربط مضمون کے لحاظ سے تو اس فقرہ کا مطلب یہ ہو گا کہ ان مشرکوں کے بہکانے پر نہ ظاہراً کوئی عمل کرو اور نہ دل میں کسی قسم کا شک و شبہ رکھو تاہم یہ حکم عام ہے۔ ظاہری گناہوں سے مراد ایسے گناہ ہیں جنہیں دوسرے لوگ دیکھ سکیں اور باطنی گناہ وہ ہیں جنہیں دیکھا نہ جا سکے جیسے کفر اور شرک کا عقیدہ حسد، بغض، بخل، تکبر وغیرہ جن کا تعلق دل سے ہوتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ظاہری اور باطنی گناہوں کو ترک کر دو ٭٭
چھوٹے بڑے پوشیدہ اور ظاہر، ہر گناہ کو چھوڑو۔ نہ کھلی بدکار عورتوں کے ہاں جاؤ نہ چوری چھپے بدکاریاں کرو، کھلم کھلا ان عورتوں سے نکاح نہ کرو جو تم پر حرام کر دی گئی ہیں۔ غرض ہر گناہ سے دور رہو، کیونکہ ہر بدکاری کا برا بدلہ ہے۔ { حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ گناہ کسے کہتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جو تیرے دل میں کھٹکے اور تو نہ چاہے کہ کسی کو اس کی اطلاع ہو جائے }۔ ۱؎[صحیح مسلم:2553]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یہاں ﴿ الْاِثْمِ ﴾ سے مراد تمام معاصی ہیں جو بندے کو گناہ گار کرتے ہیں یعنی اسے ان امور کے بارے میں گناہ اور حرج میں مبتلا کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور بندوں کے حقوق سے متعلق ہوتے ہیں۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندوں کو ظاہری اور باطنی گناہوں کے ارتکاب سے منع کیا ہے یعنی چھپ کر یا اعلانیہ ان تمام گناہوں سے روکا ہے جو بدن، جوارح اور قلب سے متعلق ہیں۔ بندہ ظاہری اور باطنی گناہوں کو اس وقت تک کامل طور پر ترک نہیں کر سکتا جب تک کہ وہ بحث و تحقیق کے بعد ان کی معرفت حاصل نہیں کر لیتا۔ بنابریں گناہوں کے بارے میں بحث و تحقیق کرنا، قلب و جوارح کے گناہوں کی معرفت اور ان کے بارے میں علم حاصل کرنا مکلف پر حتمی طور پر فرض ہے اور بہت سے لوگوں پر ان کے گناہ مخفی رہتے ہیں خاص طور پر قلب کے گناہ چھپے رہتے ہیں، مثلاً: تکبر، خود پسندی اور ریا وغیرہ۔ یہاں تک کہ بندہ ان میں سے بہت سے گناہوں کا مرتکب ہوتا ہے مگر اسے اس کا احساس اور شعور تک نہیں ہوتا اور یہ علم سے اعراض اور عدم بصیرت کی وجہ سے ہوتا ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ جو لوگ ظاہری اور باطنی گناہوں کا ارتکاب کرتے ہیں ان کے اکتساب کے مطابق اور ان کے گناہوں کی قلت و کثرت کے اعتبار سے ان کو سزا دی جائے گی اور یہ سزا آخرت میں ملے گی۔ کبھی کبھی بندے کو دنیا میں سزا دے دی جاتی ہے اس طرح اس کی برائیوں اور گناہوں میں تخفیف ہو جاتی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
المراد بالإثم: جميع المعاصي التي تؤثم العبدَ؛ أي: توقعه في الإثم والحَرَج من الأشياء المتعلِّقة بحقوق الله وحقوق عباده، فنهى الله عبادَهُ عن اقتراف الإثم الظاهر والباطن؛ أي: السر والعلانية المتعلِّقة بالبدن والجوارح والمتعلقة بالقلب، ولا يتمُّ للعبد ترك المعاصي الظاهرة والباطنة إلا بعد معرفتها والبحث عنها، فيكون البحث عنها ومعرفة معاصي القلب والبدن والعلم بذلك واجباً متعيناً على المكلَّف، وكثيرٌ من الناس تخفى عليه كثيرٌ من المعاصي، خصوصاً معاصي القلب؛ كالكبر والعجب والرياء ... ونحو ذلك حتى إنّه يكون به كثيرٌ منها وهو لا يحسُّ به ولا يشعر، وهذا من الإعراض عن العلم وعدم البصيرة.
ثم أخبر تعالى أن الذين يكسبون الإثم الظاهر والباطن سيُجْزَون على حسب كسبهم وعلى قدر ذنوبهم قلَّت أو كثرت، وهذا الجزاء يكون في الآخرة، وقد يكون في الدُّنيا؛ يعاقَب العبد فيخفَّف عنه بذلك من سيئاته.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔