ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ النور (24) — آیت 59

وَ اِذَا بَلَغَ الۡاَطۡفَالُ مِنۡکُمُ الۡحُلُمَ فَلۡیَسۡتَاۡذِنُوۡا کَمَا اسۡتَاۡذَنَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ ؕ کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمۡ اٰیٰتِہٖ ؕ وَ اللّٰہُ عَلِیۡمٌ حَکِیۡمٌ ﴿۵۹﴾
اور جب تم میں سے بچے بلوغت کو پہنچ جائیں تو اسی طرح اجازت طلب کریں جس طرح وہ لوگ اجازت طلب کرتے رہے جو ان سے پہلے تھے۔ اسی طرح اللہ تمھارے لیے اپنی آیات کھول کر بیان کرتا ہے اور اللہ خوب جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔ En
اور جب تمہارے لڑکے بالغ ہوجائیں تو ان کو بھی اسی طرح اجازت لینی چاہیئے جس طرح ان سے اگلے (یعنی بڑے آدمی) اجازت حاصل کرتے رہے ہیں۔ اس طرح خدا تم سے اپنی آیتیں کھول کھول کر سناتا ہے۔ اور خدا جاننے والا اور حکمت والا ہے
En
اور تمہارے بچے (بھی) جب بلوغت کو پہنچ جائیں تو جس طرح ان کے اگلے لوگ اجازت مانگتے ہیں انہیں بھی اجازت مانگ کر آنا چاہیئے، اللہ تعالیٰ تم سے اسی طرح اپنی آیتیں بیان فرماتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی علم وحکمت واﻻ ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

59۔ اور جب لڑے سن بلوغ [89] کو پہنچ جائیں تو وہ بھی اس طرح اذن لیا کریں جیسا کہ ان سے پہلے (ان کے برے) اجازت لیتے رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اسی طرح تمہارے لیے اپنے احکام کھول کر بیان کرتا ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے۔
[89] بلوغت اور اس کے عوامل:۔
ان میں جنسی شعور، صنفی میلانات بیدار ہونے لگیں اور شرعاً اس کی حد یہ ہے کہ بچے کو احتلام آنے لگے۔ بلوغت کی عمر کی سالوں سے تعیین کرنا مشکل ہے یہ بھی ممکن ہے کہ ایک لڑکا گیارہ سال کا ہی بالغ ہو جائے اور یہ بھی ممکن ہے کہ اٹھارہ سال تک بالغ نہ ہو۔ اور اس سن بلوغت کے بھی کئی عوامل ہیں مثلاً جن ممالک کی آب و ہوا گرم مرطوب ہو وہاں بچے جلد بالغ ہو جاتے ہیں۔ اور جہاں آب و ہوا سرد ہو وہاں دیر سے بالغ ہوتے ہیں۔ اسی طرح خوشحال گھرانوں کے بچے جلد بالغ ہو جاتے ہیں۔ اور تنگدست گھرانوں کے بچے دیر سے بالغ ہوتے ہیں۔ اسی طرح مرد و عورت کے آزادانہ اور فحاشی کے ماحول میں بچے جلد بالغ ہو جاتے ہیں اور پاکیزہ ماحول والے بچے دیر سے بالغ ہوتے ہیں۔ علاوہ ازیں بچے کی بلوغت کا مدار کسی حد تک اس کی قد و قامت اور صحت پر بھی ہوتا ہے کمزور خلقت والے بچے نسبتاً دیر سے بالغ ہوتے ہیں۔ لہٰذا بلوغت کا اندازہ کسی بچے کی عمر سے نہیں بلکہ اس کی دوسری کیفیات سے لگانا چاہئے۔ اور جب ان کی بلوغت کا علم ہو جائے۔ تو ان پر گھروں میں داخلہ پر وہی پابندیاں عائد ہو جائیں گی جو بڑوں پر ہیں یعنی کسی وقت بھی ان کا گھروں میں بلا اجازت داخلہ ممنوع ہو گا۔