پھرہم نے اس قطرے کو ایک جماہوا خون بنایا، پھر ہم نے اس جمے ہوئے خون کو ایک بوٹی بنایا، پھر ہم نے اس بوٹی کو ہڈیاں بنایا، پھر ہم نے ان ہڈیوں کو کچھ گوشت پہنایا، پھر ہم نے اسے ایک اور صورت میں پیدا کر دیا، سو بہت برکت والا ہے اللہ جو بنانے والوں میں سب سے اچھا ہے۔
En
پھر نطفے کا لوتھڑا بنایا۔ پھر لوتھڑے کی بوٹی بنائی پھر بوٹی کی ہڈیاں بنائیں پھر ہڈیوں پر گوشت (پوست) چڑھایا۔ پھر اس کو نئی صورت میں بنا دیا۔ تو خدا جو سب سے بہتر بنانے والا بڑا بابرکت ہے
پھر نطفہ کو ہم نے جما ہوا خون بنا دیا، پھر اس خون کے لوتھڑے کو گوشت کا ٹکڑا کردیا۔ پھر گوشت کے ٹکڑے کو ہڈیاں بنا دیں، پھر ہڈیوں کو ہم نے گوشت پہنا دیا، پھر دوسری بناوٹ میں اس کو پیدا کردیا۔ برکتوں واﻻ ہے وه اللہ جو سب سے بہترین پیدا کرنے واﻻ ہے
En
14۔ پھر نطفہ کو لوتھڑا بنایا پھر لوتھڑے کو بوٹی بنایا پھر بوٹی کو ہڈیاں بنایا پھر ہڈیوں پر گوشت [13] چڑھایا، پھر ہم نے اسے ایک اور ہی [14] مخلوق بنا کر پیدا کر دیا۔ بس بڑا بابرکت ہے، اللہ جو سب بنانے والوں سے [15] بہتر بنانے والا ہے۔
[13] رحم مادر میں نطفہ کی نشو و نما کے دوران جو مراحل پیش ہوتے ہیں۔ ان کی تشریح سورۃ حج کی آیت نمبر 5 کے تحت کی جا چکی ہے۔
[14] انسان کی اندرونی کائنات:۔
یعنی نطفہ اور بے جان گوشت کے لوتھڑے سے ایک جیتا جاگتا عقل و شعور رکھنے والا انسان بنا کر پیدا کر دیا۔ جس کا ایک ایک عضو اور رگ و ریشہ کئی مقاصد کی تکمیل کر رہا ہے اور اس کا کوئی بھی حصہ بیکار پیدا نہیں کیا گیا۔ اب انسان کی اندرونی ساخت پر غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ انسان کئی قسم کی آٹومیٹک کلوں اور مشینوں کا مجموعہ ہے کہیں چکی لگی ہے، کہیں چھلنی ہے، کہیں پیسنے کی کل، کہیں کوٹنے کی، کہیں توڑنے کی کہیں جذب کرنے والی کہیں فضلات کو باہر پھینکنے والی، کہیں اچھالنے والی اور کہیں اتارنے والی اور یہ خودکار مشینیں اس قدر مضبوط، مربوط اور منظم طریقے سے کام کر رہی ہیں جن کا مطالعہ کر کے انسان اللہ تعالیٰ کی قدرتوں اور حکمتوں پر عش عش بھی کر اٹھتا ہے اور ورطہ حیرت میں گم بھی ہو جاتا ہے۔ معدہ خالی ہو جائے تو از خود انسان کو بھوک اور پیاس لگتی ہے اور وہ کھانے پینے پر مجبور ہوتا ہے۔ اور جب غذا معدہ میں پہنچ جاتی ہے تو یہ سب خود کار مشینیں اپنا اپنا کام شروع کر دیتی ہیں۔ اگر ان میں سے کسی کل میں خرابی واقع ہو جائے تو انسان بیمار پڑ جاتا ہے اور اگر خرابی درست نہ ہو بلکہ بڑھ جائے تو انسان مر جاتا ہے۔ یہ تو تھا جسم کی اندرونی ساخت کا قصہ، اب اس کے قویٰ پر نظر دوڑائیے۔ جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس میں زندگی کی ابتدائی خصوصیات کے سوا کچھ بھی نہیں ہوتا نہ سماعت، نہ بصارت، نہ گویائی، نہ چلنے یا بیٹھنے کی طاقت، نہ عقل و خرد، نہ کوئی اور خوبی۔ مگر وہ رحم مادر سے باہر آکر کوئی اور ہی چیز بننا شروع ہو جاتا ہے۔ جس کو پیٹ والے جنین سے کوئی مناسبت نہیں ہوتی۔ تھوڑی ہی مدت میں وہ ایک سمیع و بصیر اور ناطق بچہ بن جاتا ہے۔
انسان کا اور ہی چیز بن جانے کا مطلب:۔
اب وہ کچھ علم ماحول سے حاصل کرتا ہے اور کچھ اپنے ذاتی تجربہ اور مشاہدہ سے۔ ذرا اس میں عقل آتی ہے تو اس میں دوسروں سے مسابقت یا آگے نکل جانے کا فن پیدا ہوتا ہے۔ اس کی یہ بیداری اور خودی اسے ہر اس چیز پر اپنا تحکم جتانے اور اپنا زور منوانے کی کوشش کرتی ہے۔ جس پر اس کا بس چل سکتا ہو اور اس کی یہی بیداری اور خودی اس میں ”کوئی اور ہی چیز“ ہونے کی کیفیت کو نمایاں تر اور افزوں تر ہوتی چلی جاتی ہے۔ پھر وہ جوان اور پختہ عمر کا ہوتا ہے تو اس کی تمام قوتیں، طاقت اور قابلیتیں بھی بڑھتی جاتی ہیں اور ایک وقت آتا ہے جب اس میں ’ہمچو ما دیگرے نیست‘ کا تصور پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ بسا اوقات بعض انسان ایسے محیر العقول کارنامے بھی سرانجام دیتے ہیں جو عام انسانوں کی بساط سے باہر ہوتے ہیں۔ [15] اب اگر انسان ذرا سا بھی غور کرے کہ کس طرح ایک حقیر پانی کی بوند سے اس کی زندگی کا آغاز ہوا۔ اور مختلف مراحل طے کرانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اسے کیا سے کیا بنا دیا۔ تو بے اختیار اس کی زبان سے یہ الفاظ نکل آتے ہیں کہ: ﴿فَتَبٰرَكَاللّٰهُاَحْسَنُالْخٰلِقِيْنَ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات مقدس کس قدر خیرو خوبی والی اور حکمتوں اور قدرتوں والی ہے جس نے انسانی تخلیق کا آغاز مٹی سے یا نطفہ سے کیا پھر مختلف مراحل طے کرا کر محیر العقول طریقوں سے اسے ایک با شعور اور صاحب ادارہ و اختیار انسان بنا دیا۔ واضح رہے کہ تبارک کا لفظ عموماً اللہ تعالیٰ سے مخصوص ہے اور ان خیر کے کاموں کے سلسلہ میں آتا ہے جو صرف اللہ تعالیٰ سے مختص ہیں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔