ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الكهف (18) — آیت 109

قُلۡ لَّوۡ کَانَ الۡبَحۡرُ مِدَادًا لِّکَلِمٰتِ رَبِّیۡ لَنَفِدَ الۡبَحۡرُ قَبۡلَ اَنۡ تَنۡفَدَ کَلِمٰتُ رَبِّیۡ وَ لَوۡ جِئۡنَا بِمِثۡلِہٖ مَدَدًا ﴿۱۰۹﴾
کہہ دے اگر سمندر میرے رب کی باتوں کے لیے سیاہی بن جائے تو یقینا سمندر ختم ہوجائے گا اس سے پہلے کہ میرے رب کی باتیں ختم ہوں، اگرچہ ہم اس کے برابر اور سیاہی لے آئیں۔ En
کہہ دو کہ اگر سمندر میرے پروردگار کی باتوں کے (لکھنے کے) لئے سیاہی ہو تو قبل اس کے کہ میرے پروردگار کی باتیں تمام ہوں سمندر ختم ہوجائے اگرچہ ہم ویسا ہی اور (سمندر) اس کی مدد کو لائیں
En
کہہ دیجئے کہ اگر میرے پروردگار کی باتوں کے لکھنے کے لئے سمندر سیاہی بن جائے تو وه بھی میرے رب کی باتوں کے ختم ہونے سے پہلے ہی ختم ہو جائے گا، گو ہم اسی جیسا اور بھی اس کی مدد میں لے آئیں En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

109۔ آپ ان سے کہہ دیجئے کہ: اگر میرے پروردگار کی باتیں لکھنے کے لئے سمندر سیاہی بن جائے تو سمندر ختم ہو جائے گا مگر میرے پروردگار کی باتیں [89] ختم نہ ہوں گی خواہ اتنی ہی اور بھی سیاہی (سمندر) لائی جائے۔
[89] اللہ کے کلمات سے کیا مراد ہے؟
کلمات سے مراد اللہ تعالیٰ کے کارنامے، کمالات اور عجائبات قدرت ہیں اور یہ لامتناہی اور بے حدد حساب ہیں جن میں ہر آن مزید وسعت بھی ہوتی رہتی ہے اور سمندر یا سمندروں کا پانی خواہ کتنا ہی کثیر مقدار میں ہو بہرحال اس کی ایک حد ہے اور ایک محدود چیز کا لامحدود چیز سے کیا مقابلہ ہو سکتا ہے لہٰذا سمندروں کی سیاہی تو ختم ہو سکتی ہے لیکن اللہ کے کلمات ختم نہیں ہو سکتے۔