ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ يونس (10) — آیت 11

وَ لَوۡ یُعَجِّلُ اللّٰہُ لِلنَّاسِ الشَّرَّ اسۡتِعۡجَالَہُمۡ بِالۡخَیۡرِ لَقُضِیَ اِلَیۡہِمۡ اَجَلُہُمۡ ؕ فَنَذَرُ الَّذِیۡنَ لَا یَرۡجُوۡنَ لِقَآءَنَا فِیۡ طُغۡیَانِہِمۡ یَعۡمَہُوۡنَ ﴿۱۱﴾
اور اگر اللہ لوگوں کو برائی جلدی دے انھیں بہت جلدی بھلائی دینے کی طرح تو یقینا ان کی طرف ان کی مدت پوری کر دی جائے۔ تو ہم ان لوگوں کو جو ہماری ملاقات کی امید نہیں رکھتے، چھوڑ دیتے ہیں، وہ اپنی سرکشی ہی میں حیران پھرتے ہیں۔ En
اور اگر خدا لوگوں کی برائی میں جلدی کرتا جس طرح وہ طلب خیر میں جلدی کرتے ہیں۔ تو ان کی (عمر کی) میعاد پوری ہوچکی ہوتی سو جن لوگوں کو ہم سے ملنے کی توقع نہیں انہیں ہم چھوڑے رکھتے ہیں کہ اپنی سرکشی میں بہکتے رہیں
En
اور اگر اللہ لوگوں پر جلدی سے نقصان واقع کردیا کرتا جس طرح وه فائده کے لیے جلدی مچاتے ہیں تو ان کا وعده کبھی کا پورا ہوچکا ہوتا۔ سو ہم ان لوگوں کو جن کو ہمارے پاس آنے کا یقین نہیں ہے ان کے حال پر چھوڑے رکھتے ہیں کہ اپنی سرکشی میں بھٹکتے رہیں En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

11۔ اور اگر اللہ بھی لوگوں کو برائی پہچانے میں ایسے ہی جلدی کرتا جیسے وہ بھلائی کو جلد از جلد چاہتے ہیں تو اب تک ان کی مدت (موت) پوری ہو چکی ہوتی (مگر اللہ کا یہ دستور نہیں) لہذا جو لوگ ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے انہیں ہم ان کی سرکشی میں بھٹکتے رہنے کے لئے کھلا چھوڑ [17] دیتے ہیں۔
[17] قریش مکہ پر قحط:۔
قریش مکہ کی مسلسل ایذا رسانیوں اور نافرمانیوں کے نتیجہ میں مکہ میں سخت قحط نمودار ہوا جس کی مصیبت سے اہل مکہ بلبلا اٹھے قریشی متکبرین کی اکڑی ہوئی گردنیں جھک گئیں۔ کھانے کو کچھ نہ ملتا تھا حتیٰ کہ یہ لوگ ہڈیاں اور چمڑہ تک کھانے پر مجبور ہو گئے اور آسمان کی طرف دیکھتے تو بھوک کی شدت اور جسمانی کمزوری کی وجہ سے انہیں دھواں ہی دھواں نظر آتا تھا اور ان دنوں وہ اللہ سے آہ زاریاں بھی کرتے تھے اور بت پرستی میں بھی خاصی کمی آگئی تھی جب اس قحط نے طول کھینچا تو ابو سفیان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگا! آپ قحط کے عذاب سے نجات کے لیے دعا کریں، آپ تو صلہ رحمی کا سبق دیتے ہیں جبکہ ہم بھوکوں مر رہے ہیں۔ اگر یہ عذاب دور ہو گیا تو ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی تو بارشیں ہونے لگیں اور قحط دور ہو گیا اور یہ دعائیں انسانوں کی بھلائی اور خوشحالی کے لیے تھیں۔
اچھی دعا جلدی قبول ہو جاتی ہے اور بری نہیں ہوتی:۔
دوسری طرف کافر لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہتے تھے کہ اے اللہ اگر یہ قرآن برحق ہے اور تیری ہی طرف سے ہے تو ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش برسا دے [8: 32] یہ دعا انسانوں کی برائی اور تباہی کے لیے تھی جسے اللہ تعالیٰ نے قبول نہ کیا حتیٰ کہ بعض دفعہ رسول اللہ کی بد دعا کے جواب میں فرما دیا۔ ﴿لَيْسَ لَكَ مِنَ الْاَمْرِ شَيْءٌ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اپنا دستور یہ بتلایا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے جب کوئی اچھی چیز طلب کی جائے تو وہ قبول فرماتا ہے اس طرح اگر وہ تم لوگوں کی بد دعائیں بھی قبول کرنے لگتا تو اس وقت تک تم میں سے کوئی بھی زندہ نہ رہتا۔ اللہ کا دستور یہ ہے کہ برے کاموں کے بدلہ میں یا بد دعاؤں کے نتیجہ میں فوراً عذاب نہیں نازل کیا کرتا بلکہ لوگوں کو سنبھلنے کا موقع دیتا رہتا ہے پھر اگر بار بار کی تنبیہات کے باوجود بھی لوگ نافرمانیوں سے باز نہ آئیں تب ان پر عذاب آتا ہے۔