ترجمہ و تفسیر — سورۃ يونس (10) — آیت 11

وَ لَوۡ یُعَجِّلُ اللّٰہُ لِلنَّاسِ الشَّرَّ اسۡتِعۡجَالَہُمۡ بِالۡخَیۡرِ لَقُضِیَ اِلَیۡہِمۡ اَجَلُہُمۡ ؕ فَنَذَرُ الَّذِیۡنَ لَا یَرۡجُوۡنَ لِقَآءَنَا فِیۡ طُغۡیَانِہِمۡ یَعۡمَہُوۡنَ ﴿۱۱﴾
اور اگر اللہ لوگوں کو برائی جلدی دے انھیں بہت جلدی بھلائی دینے کی طرح تو یقینا ان کی طرف ان کی مدت پوری کر دی جائے۔ تو ہم ان لوگوں کو جو ہماری ملاقات کی امید نہیں رکھتے، چھوڑ دیتے ہیں، وہ اپنی سرکشی ہی میں حیران پھرتے ہیں۔ En
اور اگر خدا لوگوں کی برائی میں جلدی کرتا جس طرح وہ طلب خیر میں جلدی کرتے ہیں۔ تو ان کی (عمر کی) میعاد پوری ہوچکی ہوتی سو جن لوگوں کو ہم سے ملنے کی توقع نہیں انہیں ہم چھوڑے رکھتے ہیں کہ اپنی سرکشی میں بہکتے رہیں
En
اور اگر اللہ لوگوں پر جلدی سے نقصان واقع کردیا کرتا جس طرح وه فائده کے لیے جلدی مچاتے ہیں تو ان کا وعده کبھی کا پورا ہوچکا ہوتا۔ سو ہم ان لوگوں کو جن کو ہمارے پاس آنے کا یقین نہیں ہے ان کے حال پر چھوڑے رکھتے ہیں کہ اپنی سرکشی میں بھٹکتے رہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 11){وَ لَوْ يُعَجِّلُ اللّٰهُ …: تَعْجِيْلٌ } تفعیل سے ہے، اس کا معنی وقت سے پہلے طلب کرنا اور {اِسْتِعْجَالٌ} کا معنی بھی جلدی طلب کرنا ہے، مگر یہاں یہ دونوں جلدی طلب کے معنی میں نہیں بلکہ جلدی دینے کے معنی میں ہیں اور حروف میں اضافہ معنی میں اضافے کے لیے ہے۔ اس آیت کی دو تفسیریں کی گئی ہیں۔ پہلی یہ کہ کفار جلدی مچاتے تھے کہ لاؤ عذاب جس سے ہمیں ڈراتے ہو، فرمایا: «{ وَ يَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ [الحج: ۴۷] اور وہ تجھ سے عذاب جلدی مانگتے ہیں۔ حتیٰ کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ یا اللہ! اگر اسلام واقعی حق ہے تو ہم پر پتھروں کی بارش برسا یا کوئی عذاب الیم بھیج دے۔ دیکھیے سورۂ انفال (۳۲) اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم جس طرح انھیں خیر بہت جلدی عطا کر دیتے ہیں اسی طرح (ان کے مطالبے پر) عذاب بھی جلدی بھیج دیتے تو یہ کبھی کے ہلاک ہو چکے ہوتے، مگر ہم انھیں مہلت دے کر پورا موقع دیتے ہیں کہ واپس پلٹ آئیں۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بڑا مہربان ہے، انسان جب اپنے لیے یا دوسروں کے لیے بھلائی کی دعا کرتا ہے تو اسے جلد قبول فرماتا ہے، لیکن جب غصے یا رنج میں آکر اپنے منہ سے اپنے یا اپنے بچوں یا دوسروں کے لیے بددعا کے کلمات نکالتا ہے تو وہ انھیں قبول نہیں فرماتا، بلکہ ڈھیل اور مہلت دیتا ہے کہ شاید وہ اپنی اصلاح کریں اور اگر وہ یہ بھی جلدی قبول کرلے تو لوگ جلد ہی ہلاک ہو جائیں۔ اس صورت میں استعجال میں طلب کا معنی موجود ہے، تعجیل میں نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [لاَ تَدْعُوْا عَلٰي أَنْفُسِكُمْ وَلاَ تَدْعُوْا عَلٰي أَوْلَادِكُمْ وَلاَ تَدْعُوْا عَلٰي خَدَمِكُمْ وَلاَ تَدْعُوْا عَلٰي أَمْوَالِكُمْ، لاَ تُوَافِقُوْا مِنَ اللّٰهِ سَاعَةَ نَيْلٍ فِیْھَا عَطَاءٌ فَيَسْتَجِيْبَ لَكُمْ] [أبوداوٗد، الوتر، باب النہي عن أن یدعو …: ۱۵۳۲، عن جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ و صححہ الألباني] اپنے آپ پر بددعا نہ کرو اور اپنی اولاد پر بددعا نہ کرو اور اپنے خادموں پر بددعا نہ کرو اور اپنے مالوں پر بددعا نہ کرو، ایسا نہ ہو کہ تم کسی ایسے وقت میں دعا کر بیٹھو جس میں (مانگی ہوئی چیز) دے دی جاتی ہے اور وہ تمھاری بددعا قبول کرلے۔ آخر میں فرمایا کہ آخرت کے دن پر ایمان نہ لانے والوں کو ہم ان کے کفر و شرک اور ان کی سرکشی ہی میں بھٹکتا ہوا چھوڑ دیتے ہیں۔ پہلی تفسیر ان الفاظ کے ساتھ زیادہ مناسبت رکھتی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

11۔ 1 اس کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ جس طرح انسان خیر کے طلب کرنے میں جلدی کرتا ہے، اسی طرح وہ شر (عذاب) کے طلب کرنے میں بھی جلدی مچاتا ہے، اللہ کے پیغمبروں سے کہتا ہے اگر تم سچے ہو تو وہ عذاب لے کر آؤ جس سے تم ہمیں ڈراتے ہو۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر ان کے اس مطالبے کے مطابق ہم جلدی عذاب بھیج دیتے تو کبھی کے یہ موت اور ہلاکت سے دوچار ہوچکے ہوتے۔ لیکن ہم مہلت دے کر انہیں پورا موقع دیتے ہیں۔ دوسرے معنی یہ ہیں کہ جس طرح انسان اپنے لئے خیر اور بھلائی کی دعائیں مانگتا ہے جنہیں ہم قبول کرتے ہیں۔ اسی طرح جب انسان غصے یا تنگی میں ہوتا ہے تو اپنے لئے اور اپنی اولاد وغیرہ کے لئے بد دعائیں کرتا ہے، جنہیں ہم اس لئے نظر انداز کردیتے ہیں کہ یہ زبان سے تو ہلاکت مانگ رہا ہے، مگر اس کے دل میں ایسا ارادہ نہیں ہے۔ لیکن اگر ہم انسانوں کی بد دعاؤں کے مطابق، انہیں فوراً ہلاکت سے دوچار کرنا شروع کردیں، تو پھر جلدی ہی لوگ موت اور تباہی سے ہمکنار ہوجایا کریں اس لئے حدیث میں آتا ہے کہ ' تم اپنے لئے، اپنی اولاد کے لئے اور اپنے مال و کاروبار کے لئے بد دعائیں مت کیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہاری بد دعائیں، اس گھڑی کو پالیں، جس میں اللہ کی طرف سے دعائیں قبول کی جاتی ہیں، پس وہ تمہاری بد دعائیں قبول فرما لے '۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

11۔ اور اگر اللہ بھی لوگوں کو برائی پہچانے میں ایسے ہی جلدی کرتا جیسے وہ بھلائی کو جلد از جلد چاہتے ہیں تو اب تک ان کی مدت (موت) پوری ہو چکی ہوتی (مگر اللہ کا یہ دستور نہیں) لہذا جو لوگ ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے انہیں ہم ان کی سرکشی میں بھٹکتے رہنے کے لئے کھلا چھوڑ [17] دیتے ہیں۔
[17] قریش مکہ پر قحط:۔
قریش مکہ کی مسلسل ایذا رسانیوں اور نافرمانیوں کے نتیجہ میں مکہ میں سخت قحط نمودار ہوا جس کی مصیبت سے اہل مکہ بلبلا اٹھے قریشی متکبرین کی اکڑی ہوئی گردنیں جھک گئیں۔ کھانے کو کچھ نہ ملتا تھا حتیٰ کہ یہ لوگ ہڈیاں اور چمڑہ تک کھانے پر مجبور ہو گئے اور آسمان کی طرف دیکھتے تو بھوک کی شدت اور جسمانی کمزوری کی وجہ سے انہیں دھواں ہی دھواں نظر آتا تھا اور ان دنوں وہ اللہ سے آہ زاریاں بھی کرتے تھے اور بت پرستی میں بھی خاصی کمی آگئی تھی جب اس قحط نے طول کھینچا تو ابو سفیان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگا! آپ قحط کے عذاب سے نجات کے لیے دعا کریں، آپ تو صلہ رحمی کا سبق دیتے ہیں جبکہ ہم بھوکوں مر رہے ہیں۔ اگر یہ عذاب دور ہو گیا تو ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی تو بارشیں ہونے لگیں اور قحط دور ہو گیا اور یہ دعائیں انسانوں کی بھلائی اور خوشحالی کے لیے تھیں۔
اچھی دعا جلدی قبول ہو جاتی ہے اور بری نہیں ہوتی:۔
دوسری طرف کافر لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہتے تھے کہ اے اللہ اگر یہ قرآن برحق ہے اور تیری ہی طرف سے ہے تو ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش برسا دے [8: 32] یہ دعا انسانوں کی برائی اور تباہی کے لیے تھی جسے اللہ تعالیٰ نے قبول نہ کیا حتیٰ کہ بعض دفعہ رسول اللہ کی بد دعا کے جواب میں فرما دیا۔ ﴿لَيْسَ لَكَ مِنَ الْاَمْرِ شَيْءٌ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اپنا دستور یہ بتلایا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے جب کوئی اچھی چیز طلب کی جائے تو وہ قبول فرماتا ہے اس طرح اگر وہ تم لوگوں کی بد دعائیں بھی قبول کرنے لگتا تو اس وقت تک تم میں سے کوئی بھی زندہ نہ رہتا۔ اللہ کا دستور یہ ہے کہ برے کاموں کے بدلہ میں یا بد دعاؤں کے نتیجہ میں فوراً عذاب نہیں نازل کیا کرتا بلکہ لوگوں کو سنبھلنے کا موقع دیتا رہتا ہے پھر اگر بار بار کی تنبیہات کے باوجود بھی لوگ نافرمانیوں سے باز نہ آئیں تب ان پر عذاب آتا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اللہ تعالٰی اپنے احسانات کا تذکرہ فرماتے ہیں ٭٭
فرمان ہے کہ ’ میرے الطاف اور میری مہربانیوں کو دیکھو، کہ بندے کبھی کبھی تنگ آ کر، گھبرا کر اپنے لیے، اپنے بال بچوں کے لیے اپنے مالک کے لیے، بد دعائیں کربیٹھتے ہیں لیکن میں انہیں قبول کرنے میں جلدی نہیں کرتا، ورنہ وہ کسی گھر کے نہ رہیں جیسے کہ میں انہی چیزوں کی برکت کی دعائیں قبول فرما لیا کرتا ہوں، ورنہ یہ تباہ ہو جاتے ‘۔ پس بندوں کو ایسی بدعاؤں سے پرہیز کرنا چاہیئے۔
چنانچہ مسند بزار کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، { اپنی جان و مال پر بد دعا نہ کرو۔ ایسا نہ ہو کہ کسی قبولیت کی ساعت موافقت کر جائے اور وہ بد دعا قبول ہو جائے } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1532،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
اسی مضمون کا بیان «وَيَدْعُ الإِنْسَـنُ بِالشَّرِّ دُعَآءَهُ بِالْخَيْرِ» ۱؎ [17-الإسراء:11]‏‏‏‏ میں ہے، غرض یہ ہے کہ انسان کا کسی وقت اپنی اولاد مال وغیرہ کے لیے بد دعا کرنا کہ اللہ اسے غارت کرے وغیرہ۔ ایک نیک دعاؤں کی طرح قبولیت میں ہی آ جایا کرے تو لوگ برباد ہوجائیں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا اپنے بندوں پر لطف و احسان ہے... کہ جب بندے برائی کے اسباب مہیا کرتے ہیں تو اگر اللہ تعالیٰ ان کو اس برائی میں عجلت سے پکڑنا اور انھیں فوراً عذاب میں مبتلا کرنا چاہے، جس طرح وہ نیکی کرتے ہیں تو ان کے لیے جلدی سے ثواب لکھ لیا جاتا ہے، ﴿ لَ٘قُ٘ضِیَ اِلَیْهِمْ اَجَلُهُمْ تو ختم کر دی جائے ان کی عمر یعنی عذاب ان کو ملیا میٹ کر دے... مگر اللہ تعالیٰ ان کو مہلت دیتا ہے اور اپنے بہت سے حقوق کے بارے میں ان کی کوتاہیوں کو معاف کر دیتا ہے اور اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کے ظلم پر ان کا مواخذہ کرے تو روئے زمین پر کسی جاندار کو نہ چھوڑے۔
اس آیت کریمہ میں یہ چیز بھی داخل ہے کہ بسا اوقات انسان اپنے اہل و اولاد اور مال پر ناراض ہو کر بددعا کر بیٹھتا ہے اگر اس کی بددعا قبول ہو جائے تو سب ہلاک ہو جائیں اور اس سے اسے سخت نقصان پہنچے۔ مگر اللہ تعالیٰ نہایت حلیم اور حکمت والا ہے۔ (یعنی ایسی بددعاؤں کو قبول نہیں فرماتا)
﴿ فَنَذَرُ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا پس ہم چھوڑے رکھتے ہیں ان لوگوں کو جن کو ہماری ملاقات کی امید نہیں یعنی وہ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے۔ اسی لیے اس کے لیے کوئی تیاری نہیں کرتے اور وہ یہ بھی نہیں جانتے کہ کون سی چیز انھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات دے گی۔ ﴿ فِیْ طُغْیَانِهِمْ اپنی سرکشی میں۔ یعنی اپنے باطل میں، جس کی بنا پر انھوں نے حق اور حدود سے تجاوز کیا ﴿ یَعْمَهُوْنَ وہ حیران اور سرگرداں پھرتے ہیں انھیں کوئی راستہ نہیں ملتا اور نہ وہ کسی مضبوط دلیل کی توفیق سے بہرہ ور ہوتے ہیں اور یہ ان کے ظلم اور اللہ تعالیٰ کی آیات کے انکار کی پاداش میں ان کے لیے سزا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وهذا من لطفه وإحسانه بعباده: أنَّه لو عجَّل لهم الشرَّ إذا أتَوْا بأسبابه وبادَرَهم بالعقوبة على ذلك كما يعجِّل لهم الخير إذا أَتَوْا بأسبابه؛ {لَقُضِيَ إليهم أجلُهم}؛ أي: لمحقتهم العقوبة، ولكنه تعالى يمهِلُهم ولا يهملهم ويعفو عن كثيرٍ من حقوقه؛ فلو يؤاخذ الله الناس بظلمهم؛ ما ترك على ظهرها من دابَّة، ويدخل في هذا أن العبد إذا غضب على أولاده أو أهله أو ماله ربَّما دعا عليهم دعوةً لو قُبِلَتْ منه؛ لهلكوا ولأضرَّه ذلك غاية الضرر، ولكنَّه تعالى حليمٌ حكيمٌ. وقوله: {فَنَذَرُ الذين لا يرجون لقاءنا}؛ أي: لا يؤمنون بالآخرة؛ فلذلك لا يستعدُّون لها ولا يعملون ما يُنجيهم من عذاب الله، {في طغيانِهِم}؛ أي: باطلهم الذي جاوزوا به الحقَّ والحدَّ {يعمهون}: يترَّددون حائرين، لا يهتدون السبيل، ولا يوفَّقون لأقوم دليل، وذلك عقوبة لهم على ظلمهم وكفرهم بآيات الله.