ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ التوبة (9) — آیت 57

لَوۡ یَجِدُوۡنَ مَلۡجَاً اَوۡ مَغٰرٰتٍ اَوۡ مُدَّخَلًا لَّوَلَّوۡا اِلَیۡہِ وَ ہُمۡ یَجۡمَحُوۡنَ ﴿۵۷﴾
اگر وہ کوئی پناہ کی جگہ پا لیں، یا کوئی غاریں، یا گھسنے کی کوئی جگہ تو اس کی طرف لوٹ جائیں، اس حال میں کہ وہ رسیاں تڑا رہے ہوں۔ En
اگر ان کی کوئی بچاؤ کی جگہ (جیسے قلعہ) یا غار ومغاک یا (زمین کے اندر) گھسنے کی جگہ مل جائے تو اسی طرف رسیاں تڑاتے ہوئے بھاگ جائیں
En
اگر یہ کوئی بچاؤ کی جگہ یا کوئی غار یا کوئی بھی سر گھسانے کی جگہ پالیں تو ابھی اس طرح لگام توڑ کر الٹے بھاگ چھوٹیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت57) {لَوْ يَجِدُوْنَ مَلْجَاً …: مَلْجَاً لَجَِأَ يَلْجَأُ} (ف، س)سے اسم ظرف ہے، پناہ لینے کی جگہ۔{ مَغٰرٰتٍ مَغَارَةٌ} کی جمع ہے۔ {غَوْرٌ} گہری جگہ کو کہتے ہیں، پہاڑ یا زمین میں کوئی غار۔ { مُدَّخَلًا دَخَلَ } سے باب افتعال میں سے ظرف ہے، حروف بڑھ جانے سے معنی میں اضافہ ہو گیا، یعنی مشکل اور مشقت سے گھس جانے کی کوئی جگہ۔ مطلب یہ ہے کہ انھیں فرار کا کوئی راستہ نظر نہیں آتا، ورنہ اگر انھیں بری سے بری جگہ بھی جانے کے لیے مل جائے تو رسیاں تڑاتے ہوئے اس کی طرف بھاگ جائیں، کیونکہ بری سے بری جگہیں یہی تین ہو سکتی ہیں، جن کی طرف جایا جا سکتا ہے۔ { يَجْمَحُوْنَ جَمَحَ الْفَرَسُ} اصل میں گھوڑے کے منہ زور ہو کر سوار کے قابو سے نکل کر بھاگ جانے کو کہتے ہیں، یعنی انھیں مسلمانوں سے، ان کی مجالس اور ان کے معاشرے سے بڑا شدید بغض ہے مگر ان کا بس نہیں چلتا، اس لیے مسلم معاشرے میں رہنے اور اس کے فوائد حاصل کرنے کے لیے تمھارے سامنے تمھارا ہونے کی قسمیں کھاتے ہیں۔