(آیت 29){ اِنَّالَّذِيْنَاَجْرَمُوْا …: ”يَضْحَكُوْنَ“} ”ہنسا کرتے تھے “کہ ان پر کیا پاگل پن سوار ہے کہ دنیا کی نقد لذتوں کو چھوڑ کر کل کی ان دیکھی خیالی لذتوں کے وعدوں کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔ {”كَانُوْا“} اور {”يَضْحَكُوْنَ“} کے الفاظ سے معلوم ہوا کہ یہ ان کا ہمیشہ کا مشغلہ تھا۔ یہ صرف مکہ کے مشرکین کی بات نہیں، آج کے ملحد اور بے دین بھی مسلمانوں کو رجعت پسند، دقیانوسی، تنگ نظر، تاریک خیال اور اس قسم کے طنزیہ خطابات دے کر خوش ہوتے اور اپنے دل کا بخار نکالتے رہتے ہیں۔ بہت سے شاعروں نے بھی جنت اور اہلِ جنت پر چوٹیں کی ہیں، ان سب کو ان آیات کے مضمون سے ڈرنا چاہیے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔