ترجمہ و تفسیر — سورۃ المطففين (83) — آیت 29

اِنَّ الَّذِیۡنَ اَجۡرَمُوۡا کَانُوۡا مِنَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا یَضۡحَکُوۡنَ ﴿۫ۖ۲۹﴾
بے شک وہ لوگ جنھوں نے جرم کیے،ان لوگوں پر جو ایمان لائے، ہنسا کرتے تھے۔ En
جو گنہگار (یعنی کفار) ہیں وہ (دنیا میں) مومنوں سے ہنسی کیا کرتے تھے
En
گنہگار لوگ ایمان والوں کی ہنسی اڑایا کرتے تھے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 29){ اِنَّ الَّذِيْنَ اَجْرَمُوْا …: يَضْحَكُوْنَ } ہنسا کرتے تھے کہ ان پر کیا پاگل پن سوار ہے کہ دنیا کی نقد لذتوں کو چھوڑ کر کل کی ان دیکھی خیالی لذتوں کے وعدوں کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔ { كَانُوْا } اور { يَضْحَكُوْنَ } کے الفاظ سے معلوم ہوا کہ یہ ان کا ہمیشہ کا مشغلہ تھا۔ یہ صرف مکہ کے مشرکین کی بات نہیں، آج کے ملحد اور بے دین بھی مسلمانوں کو رجعت پسند، دقیانوسی، تنگ نظر، تاریک خیال اور اس قسم کے طنزیہ خطابات دے کر خوش ہوتے اور اپنے دل کا بخار نکالتے رہتے ہیں۔ بہت سے شاعروں نے بھی جنت اور اہلِ جنت پر چوٹیں کی ہیں، ان سب کو ان آیات کے مضمون سے ڈرنا چاہیے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

29۔ 1 یعنی انہیں حقیر جانتے ہوئے ان کا مذاق اڑاتے تھے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

29۔ مجرم لوگ (دنیا میں) ایمانداروں پر ہنسا کرتے تھے

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

گنہگار لوگ روز قیامت رسوا ہوں گے ٭٭
یعنی دنیا میں تو ان کافروں کی خوب بن آئی تھی ایمان داروں کو مذاق میں اڑاتے رہے، چلتے پھرتے آواز کستے رہے اور حقارت و تذلیل کرتے رہے اور اپنے والوں میں جا کر خوب باتیں بناتے تھے جو چاہتے تھے پاتے تھے لیکن شکر تو کہاں اور کفر پر آمادہ ہو کر مسلمانوں کی ایذا رسانی کے درپے ہو جاتے تھے اور چونکہ مسلمان ان کی مانتے نہ تھے تو یہ انہیں گمراہ کہا کرتے تھے۔
اللہ فرماتا ہے ’ کچھ یہ لوگ محافظ بنا کر تو نہیں بھیجے گئے انہیں مومنوں کی کیا پڑی کیوں ہر وقت ان کے پیچھے پڑے ہیں اور ان کے اعمال افعال کی دیکھ بھال رکھتے ہیں اور طعنہ آمیز باتیں بناتے رہتے ہیں؟ ‘
جیسے اور جگہ ہے «قَالَ اخْسَئُوا فِيهَا وَلَا تُكَلِّمُونِ إِنَّهُ كَانَ فَرِيقٌ مِّنْ عِبَادِي يَقُولُونَ رَبَّنَا آمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا وَأَنتَ خَيْرُ الرَّاحِمِينَ فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا حَتَّىٰ أَنسَوْكُمْ ذِكْرِي وَكُنتُم مِّنْهُمْ تَضْحَكُونَ إِنِّي جَزَيْتُهُمُ الْيَوْمَ بِمَا صَبَرُوا أَنَّهُمْ هُمُ الْفَائِزُونَ» ۱؎ [23-المؤمنون:108-111]‏‏‏‏ یعنی ’ اس جہنم میں پڑے جھلستے رہو مجھ سے بات نہ کرو میرے بعض خاص بندے کہتے تھے کہ اے ہمارے پروردگار ہم ایمان لائے تو ہمیں بخش اور ہم پر رحم کر تو سب سے بڑا رحم و کرم کرنے والا ہے تو تم نے انہیں مذاق میں اڑایا اور اس قدر غافل ہوئے کہ میری یاد بھلا بیٹھے اور ان سے ہنسی مذاق کرنے لگے دیکھو آج میں نے انہیں ان کے صبر کا یہ بدلا دیا ہے کہ وہ ہر طرح کامیاب ہیں۔ ‘
یہاں بھی اس کے بعد ارشاد فرماتا ہے کہ ’ آج قیامت کے دن ایماندار ان بدکاروں پر ہنس رہے ہیں اور تختوں پر بیٹھے اپنے اللہ کو دیکھ رہے ہیں جو اس کا صاف ثبوت ہے کہ یہ گمراہ نہ تھے گو تم انہیں گم کردہ راہ کہا کرتے تھے بلکہ یہ دراصل اولیاء اللہ تھے مقربین اللہ تھے اسی لیے آج اللہ کا دیدار ان کی نگاہوں کے سامنے ہے یہ اللہ کے مہمان ہیں اور اس کے بزرگی والے گھر میں ٹھہرے ہوئے ہیں جیسا کچھ ان کافروں نے مسلمانوں کے ساتھ دنیا میں کیا تھا اس کا پورا بدلہ انہیں آخرت میں مل گیا یا نہیں؟ ان کے مذاق کے بدلے آج ان کی ہنسی اڑائی گئی یہ ان کا مرتبہ گھٹاتے تھے اللہ نے ان کا مرتبہ بڑھایا۔ غرض پورا پورا تمام و کمال بدلہ دے دیا۔ ‘
«الْحَمْدُ لِلَّـه» سورۃ المطففین کی تفسیر ختم ہوئی۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تعالیٰ نے مجرموں کی جزا اور نیکو کاروں کی جزا کا ذکر کرنے اور ان کے درمیان جو عظیم تفاوت ہے، اس کو بیان کرنے کے بعد آگاہ فرمایا کہ یہ مجرم دنیا میں اہل ایمان کا تمسخر اڑاتے، ان کے ساتھ استہزا کرتے اور ان پر ہنستے تھے۔ جب اہل ایمان ان کے پاس سے گزرتے تو یہ مجرم حقارت اور عیب چینی کے ساتھ، باہم اشارے کرتے تھے۔بایں ہمہ آپ ان کو مطمئن دیکھیں گے خوف ان کے دل میں راہ نہیں پاتا۔
﴿ وَاِذَا انْقَلَبُوْۤا اِلٰۤى اَهْلِهِمُ اور جب وہ اپنے گھر کو لوٹتے۔ یعنی صبح و شام ﴿ انْقَلَبُوْا فَـكِهِیْنَ تو مسرور اور خوش و خرم لوٹتے۔ یہ سب سے بڑی فریب خوردگی ہے کہ انھوں نے دنیا میں برائی کو امن کے ساتھ اکٹھا کر دیا، گویا کہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی کتاب یا عہد آ گیا ہے کہ وہ اہل سعادت ہیں، انھوں نے اپنے بارے میں حکم لگایا ہے کہ وہ ہدایت یافتہ لوگ ہیں اور اہل ایمان گمراہ لوگ ہیں، یہ اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی اور بلا علم بات کہنے کی جسارت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمَاۤ اُرْسِلُوْا عَلَیْهِمْ حٰؔفِظِیْنَ یعنی ان کو اہل ایمان پر وکیل اور ان کے اعمال کی حفاظت کا ذمہ دار بنا کر نہیں بھیجا گیا کہ وہ ان پر گمراہی کا بہتان لگانے کی حرص رکھیں، اور یہ ان کی طرف سے محض، عیب جوئی، عناد اور محض کھیل تماشا ہے، اس کی کوئی دلیل ہے نہ برہان۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

لما ذكر تعالى جزاء المجرمينَ وجزاء المحسنين، وذكر ما بينهما من التفاوت العظيم؛ أخبر أنَّ المجرمين كانوا في الدُّنيا يسخرون بالمؤمنين ويستهزِئون بهم و {يضحكون}: منهم، فَـ {يتغامَزون}: بهم عند مرورهم عليهم احتقاراً لهم وازدراءً، ومع هذا تراهم مطمئنِّين لا يخطُر الخوف على بالهم، {وإذا انقلبوا إلى أهِلِهم}: صباحاً أو مساءً، {انقلبوا فَكِهين}؛ أي: مسرورين مغتبطين، وهذا أشدُّ ما يكون من الاغترار؛ أنَّهم جمعوا بين غاية الإساءة مع الأمن في الدُّنيا، حتى كأنَّهم قد جاءهم كتابٌ وعهدٌ من الله - أنَّهم من أهل السعادة، وقد حكموا لأنفسهم أنَّهم أهلُ الهدى، وأنَّ المؤمنين ضالُّون؛ افتراءً على الله، وتجرؤوا على القول عليه بلا علم. قال تعالى: {وما أُرْسِلوا عليهم حافظين}؛ أي: وما أرسلوا وكلاء على المؤمنين، ملزمين بحفظ أعمالهم، حتى يحرصوا على رميهم بالضَّلال، وما هذا منهم إلاَّ تعنُّتٌ وعنادٌ وتلاعبٌ ليس له مستندٌ ولا برهانٌ.