تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اللہ فرماتا ہے ’ کچھ یہ لوگ محافظ بنا کر تو نہیں بھیجے گئے انہیں مومنوں کی کیا پڑی کیوں ہر وقت ان کے پیچھے پڑے ہیں اور ان کے اعمال افعال کی دیکھ بھال رکھتے ہیں اور طعنہ آمیز باتیں بناتے رہتے ہیں؟ ‘
جیسے اور جگہ ہے «قَالَ اخْسَئُوا فِيهَا وَلَا تُكَلِّمُونِ إِنَّهُ كَانَ فَرِيقٌ مِّنْ عِبَادِي يَقُولُونَ رَبَّنَا آمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا وَأَنتَ خَيْرُ الرَّاحِمِينَ فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا حَتَّىٰ أَنسَوْكُمْ ذِكْرِي وَكُنتُم مِّنْهُمْ تَضْحَكُونَ إِنِّي جَزَيْتُهُمُ الْيَوْمَ بِمَا صَبَرُوا أَنَّهُمْ هُمُ الْفَائِزُونَ» ۱؎ [23-المؤمنون:108-111] یعنی ’ اس جہنم میں پڑے جھلستے رہو مجھ سے بات نہ کرو میرے بعض خاص بندے کہتے تھے کہ اے ہمارے پروردگار ہم ایمان لائے تو ہمیں بخش اور ہم پر رحم کر تو سب سے بڑا رحم و کرم کرنے والا ہے تو تم نے انہیں مذاق میں اڑایا اور اس قدر غافل ہوئے کہ میری یاد بھلا بیٹھے اور ان سے ہنسی مذاق کرنے لگے دیکھو آج میں نے انہیں ان کے صبر کا یہ بدلا دیا ہے کہ وہ ہر طرح کامیاب ہیں۔ ‘
یہاں بھی اس کے بعد ارشاد فرماتا ہے کہ ’ آج قیامت کے دن ایماندار ان بدکاروں پر ہنس رہے ہیں اور تختوں پر بیٹھے اپنے اللہ کو دیکھ رہے ہیں جو اس کا صاف ثبوت ہے کہ یہ گمراہ نہ تھے گو تم انہیں گم کردہ راہ کہا کرتے تھے بلکہ یہ دراصل اولیاء اللہ تھے مقربین اللہ تھے اسی لیے آج اللہ کا دیدار ان کی نگاہوں کے سامنے ہے یہ اللہ کے مہمان ہیں اور اس کے بزرگی والے گھر میں ٹھہرے ہوئے ہیں جیسا کچھ ان کافروں نے مسلمانوں کے ساتھ دنیا میں کیا تھا اس کا پورا بدلہ انہیں آخرت میں مل گیا یا نہیں؟ ان کے مذاق کے بدلے آج ان کی ہنسی اڑائی گئی یہ ان کا مرتبہ گھٹاتے تھے اللہ نے ان کا مرتبہ بڑھایا۔ غرض پورا پورا تمام و کمال بدلہ دے دیا۔ ‘
«الْحَمْدُ لِلَّـه» سورۃ المطففین کی تفسیر ختم ہوئی۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
لما ذكر تعالى جزاء المجرمينَ وجزاء المحسنين، وذكر ما بينهما من التفاوت العظيم؛ أخبر أنَّ المجرمين كانوا في الدُّنيا يسخرون بالمؤمنين ويستهزِئون بهم و {يضحكون}: منهم، فَـ {يتغامَزون}: بهم عند مرورهم عليهم احتقاراً لهم وازدراءً، ومع هذا تراهم مطمئنِّين لا يخطُر الخوف على بالهم، {وإذا انقلبوا إلى أهِلِهم}: صباحاً أو مساءً، {انقلبوا فَكِهين}؛ أي: مسرورين مغتبطين، وهذا أشدُّ ما يكون من الاغترار؛ أنَّهم جمعوا بين غاية الإساءة مع الأمن في الدُّنيا، حتى كأنَّهم قد جاءهم كتابٌ وعهدٌ من الله - أنَّهم من أهل السعادة، وقد حكموا لأنفسهم أنَّهم أهلُ الهدى، وأنَّ المؤمنين ضالُّون؛ افتراءً على الله، وتجرؤوا على القول عليه بلا علم. قال تعالى: {وما أُرْسِلوا عليهم حافظين}؛ أي: وما أرسلوا وكلاء على المؤمنين، ملزمين بحفظ أعمالهم، حتى يحرصوا على رميهم بالضَّلال، وما هذا منهم إلاَّ تعنُّتٌ وعنادٌ وتلاعبٌ ليس له مستندٌ ولا برهانٌ.