(آیت 49تا51){ فَمَالَهُمْعَنِالتَّذْكِرَةِ …: ”مُسْتَنْفِرَةٌ“} باب استفعال سے اسم فاعل بمعنی {”نَافِرَةٌ“} ہے، جیسے {”عَجِبَ“} اور {”اِسْتَعْجَبَ“} اسی طرح {”سَخِرَ“} اور {”اِسْتَسْخَرَ“} ہم معنی ہیں۔ حروف زیادہ ہونے سے معنی میں مبالغہ پیدا ہوگیا، سخت بدکنے والے۔ {”قَسْوَرَةٍ“”قَسْرٌ“} سے ہے جس کا معنی غلبہ اور قہر ہے، چونکہ شیر اپنے شکار کو مغلوب و مقہور کرتا ہے اس لیے اسے ”قسورہ“ کہتے ہیں۔ شکاریوں کی جماعت کو بھی ”قسورہ“ کہتے ہیں اور لوگوں کے شورو غل کو بھی ”قسورہ“ کہتے ہیں۔ کفار کے نصیحت اور آیات قرآنی سننے سے بھاگنے کو ان جنگلی گدھوں کے ساتھ تشبیہ دی ہے جو شیر کی آہٹ یا شکاریوں کے خطرے سے بدک کر بے تحاشا بھاگتے ہیں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔