(آیت 49تا51){ فَمَالَهُمْعَنِالتَّذْكِرَةِ …: ”مُسْتَنْفِرَةٌ“} باب استفعال سے اسم فاعل بمعنی {”نَافِرَةٌ“} ہے، جیسے {”عَجِبَ“} اور {”اِسْتَعْجَبَ“} اسی طرح {”سَخِرَ“} اور {”اِسْتَسْخَرَ“} ہم معنی ہیں۔ حروف زیادہ ہونے سے معنی میں مبالغہ پیدا ہوگیا، سخت بدکنے والے۔ {”قَسْوَرَةٍ“”قَسْرٌ“} سے ہے جس کا معنی غلبہ اور قہر ہے، چونکہ شیر اپنے شکار کو مغلوب و مقہور کرتا ہے اس لیے اسے ”قسورہ“ کہتے ہیں۔ شکاریوں کی جماعت کو بھی ”قسورہ“ کہتے ہیں اور لوگوں کے شورو غل کو بھی ”قسورہ“ کہتے ہیں۔ کفار کے نصیحت اور آیات قرآنی سننے سے بھاگنے کو ان جنگلی گدھوں کے ساتھ تشبیہ دی ہے جو شیر کی آہٹ یا شکاریوں کے خطرے سے بدک کر بے تحاشا بھاگتے ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
49۔ پھر انہیں کیا ہو گیا ہے کہ نصیحت سے منہ موڑ رہے ہیں
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
جب اللہ تعالیٰ نے مخالفین کا انجام واضح کر دیا اور یہ بھی بیان کر دیا کہ ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا تو موجود کفار پر عتاب اور ملامت کی طرف توجہ دی، چنانچہ فرمایا: ﴿ فَمَالَهُمْعَنِالتَّذْكِرَةِمُعْرِضِیْنَ﴾”پس انھیں کیا ہوا ہے کہ وہ نصیحت سے روگرداں ہیں۔“ یعنی نصیحت سے غافل اور اس سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔ ﴿ كَاَنَّهُمْ﴾”گویا کہ وہ“ اس نصیحت سے اپنی سخت نفرت میں ﴿ حُمُرٌمُّسْتَنْفِرَةٌ﴾ بدکے ہوئے جنگلی گدھے ہیں جو ایک دوسرے سے بدک گئے ہیں اور اس بنا پر ان کی دوڑ میں تیزی آ گئی ہے۔ ﴿فَرَّتْمِنْقَسْوَرَةٍ﴾ جو کسی شکاری یا کسی تیر انداز سے، جو ان کو نشانے میں لینے کا ارادہ رکھتا ہو، یا کسی شیر وغیرہ سے ڈر کر بھاگے ہیں۔
اور یہ حق سے سب سے بڑی نفرت ہے، اس نفرت اور اعراض کے باوجود بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں۔ پس ﴿ یُرِیْدُكُ٘لُّامْرِئٍمِّؔنْهُمْاَنْیُّؤْتٰىصُحُفًامُّنَشَّرَةً﴾”ان میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کے پاس کھلی کتاب آئے۔“ یعنی اس پر آسمان سے نازل ہو، وہ سمجھتا ہے کہ وہ اس صورت میں حق کو تسلیم کرلے گا۔ حالانکہ انھوں نے جھوٹ بولا ہے، اس کے پاس اگر ہر قسم کی نشانی بھی آ جائے، تب بھی وہ اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک وہ درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں کیونکہ ان کے پاس واضح دلائل آئے جنھوں نے حق کو بیان کر کے واضح کر دیا اگر ان میں کوئی بھلائی ہوتی تو وہ ضرور ایمان لے آتے۔اس لیے فرمایا:﴿ كَلَّا﴾”ہر گز نہیں“ ہم انھیں وہ چیز عطا نہیں کریں گے جس کا انھوں نے مطالبہ کیا ہے، اس سے ان کا مقصد عاجز کرنے کے سوا اور کوئی نہیں۔ ﴿بَلْلَّایَخَافُوْنَالْاٰخِرَةَ﴾”حقیت یہ ہے کہ وہ آخرت سے نہیں ڈرتے۔“ پس اگر انھیں آخرت کا خوف ہوتا تو ان سے یہ سب کچھ صادر نہ ہوتا جو صادر ہوا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فلمَّا بيَّن الله مآل المخالفين وبيَّن ما يفعل بهم؛ عطف على الموجودين بالعتاب واللوم، فقال: {فما لهم عن التَّذْكِرَةِ معرِضينَ}؛ أي: صادَّين غافلين عنها، {كأنَّهم}: في نفرتِهِم الشديدة منها {حمُرٌ مستنفرةٌ}؛ أي: [كأنّهم] حمُرُ وحشٍ نفرتْ؛ فنفَّر بعضُها بعضاً فزاد عَدْوُها، {فرَّتْ من قَسْوَرَةٍ}؛ أي: من صائدٍ ورامٍ يريدها أو من أسدٍ ونحوه، وهذا من أعظم ما يكون من النُّفور عن الحقِّ، ومع هذا النفور والإعراض يدَّعون الدَّعاوي الكبار؛ فيريد {كلُّ} واحد {منهم أن يُؤْتى صُحُفاً منشَّرةً}: نازلة عليه من السماء؛ يزعم أنَّه لا ينقاد للحقِّ؛ إلاَّ بذلك، وقد كذَّبوا؛ فإنَّهم لو جاءتهم كلُّ آيةٍ؛ لم يؤمنوا حتى يروا العذاب الأليم؛ لأنَّهم جاءتهم الآياتُ البيناتُ، التي تبيِّن الحقَّ وتوضِّحه؛ فلو كان فيهم خيرٌ؛ لآمنوا، ولهذا قال: {كلاَّ}؛ أي: لا نعطيهم ما طلبوا، وهم ما قصدوا بذلك إلاَّ التعجيز، {بل لا يخافونَ الآخرةَ}: فلو كانوا يخافونها؛ لما جرى منهم ما جرى.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔