ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الملك (67) — آیت 27

فَلَمَّا رَاَوۡہُ زُلۡفَۃً سِیۡٓـَٔتۡ وُجُوۡہُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَ قِیۡلَ ہٰذَا الَّذِیۡ کُنۡتُمۡ بِہٖ تَدَّعُوۡنَ ﴿۲۷﴾
پس جب وہ اس کو قریب دیکھیں گے تو ان لوگوں کے چہرے بگڑ جائیں گے جنھوں نے انکار کیا اور کہا جائے گا یہی ہے وہ جو تم مانگا کرتے تھے۔ En
سو جب وہ دیکھ لیں گے کہ وہ (وعدہ) قریب آگیا تو کافروں کے منہ برے ہوجائیں گے اور (ان سے) کہا جائے گا کہ یہ وہی ہے جس کے تم خواستگار تھے
En
جب یہ لوگ اس وعدے کو قریب تر پالیں گے اس وقت ان کافروں کے چہرے بگڑ جائیں گے اور کہہ دیا جائے گا کہ یہی ہے جسے تم طلب کیا کرتے تھے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 27) {فَلَمَّا رَاَوْهُ زُلْفَةً سِيْٓـَٔتْ …: زُلْفَةً زَلَفَ يَزْلُفُ} (ن) سے اسم مصدر بمعنی اسم فاعل ہے، قریب۔ { تَدَّعُوْنَ دَعَا يَدْعُوْ} کے باب افتعال سے فعل مضارع ہے، جس میں تائے افتعال کو دال سے بدل کر دال کو دال میں ادغام کر دیا ہے۔ اب وہ جس قیامت کو مذاق سمجھ رہے ہیں اور جس کا مطالبہ بڑے دھڑلے سے بار بار کر رہے ہیں، جب قریب آتی ہوئی دیکھیں گے تو سب ہنسی مذاق اور شیخی شوخی بھول جائیں گے، خوف اور دہشت سے ان کے چہرے بگڑ جائیں گے اور کہا جائے گا یہی ہے وہ قیامت جس کا تم مطالبہ کیا کرتے تھے۔