(آیت 48،47) {وَاِنَّهُمْعِنْدَنَالَمِنَالْمُصْطَفَيْنَالْاَخْيَارِ …: ”الْمُصْطَفَيْنَ“”مُصْطَفٰي“} کی جمع ہے، جو باب افتعال سے اسم مفعول ہے اور اصل میں {”مُصْتَفٰي“} ہے، صاد کی وجہ سے تاء کو طاء میں بدل دیا ”چُنے ہوئے۔“ {”الْاَخْيَارِ“”خَيْرٌ“} کی جمع ہے جو اسم تفضیل کا صیغہ ہے اور اصل میں {”أَخْيَرُ“} ہے، اس لیے اس کی جمع {”الْاَخْيَارِ“} آئی ہے ”سب سے بہتر لوگ۔“