ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ سبأ (34) — آیت 45

وَ کَذَّبَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ ۙ وَ مَا بَلَغُوۡا مِعۡشَارَ مَاۤ اٰتَیۡنٰہُمۡ فَکَذَّبُوۡا رُسُلِیۡ ۟ فَکَیۡفَ کَانَ نَکِیۡرِ ﴿٪۴۵﴾
اور ان لوگو ں نے (بھی) جھٹلایا جو ان سے پہلے تھے اور یہ اس کے دسویں حصے کو بھی نہیں پہنچے جو ہم نے انھیں دیا تھا، پس انھوں نے میرے رسولوں کو جھٹلایا تو میرا عذاب کیسا تھا؟ En
اور جو لوگ ان سے پہلے تھے انہوں نے تکذیب کی تھی اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا تھا یہ اس کے دسویں حصے کو بھی نہیں پہنچے تو انہوں نے میرے پیغمبروں کو جھٹلایا۔ سو میرا عذاب کیسا ہوا
En
اور ان سے پہلے کے لوگوں نے بھی ہماری باتوں کو جھٹلایا تھا اور انہیں ہم نے جو دے رکھا تھا یہ تو اس کے دسویں حصے کو بھی نہیں پہنچے، پس انہوں نے میرے رسولوں کو جھٹلایا، (پھر دیکھ کہ) میرا عذاب کیسا (سخت) تھا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 45) ➊ {وَ كَذَّبَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ…: مِعْشَارَ } اور {عُشْرٌ} دونوں کا معنی دسواں حصہ ہے۔ یعنی پہلی اقوام جو تباہ کی گئیں، انھیں جو قد و قامت، قوت و دولت اور شان و شوکت عطا کی گئی تھی ان عرب کے کافروں کے پاس تو اس کا دسواں حصہ بھی نہیں۔ دیکھیے سورۂ روم (۹)، مومن (۲۱) اور سورۂ احقاف (۲۶)۔
➋ { فَكَذَّبُوْا رُسُلِيْ فَكَيْفَ كَانَ نَكِيْرِ: نَكِيْرِ } اصل میں {نَكِيْرِيْ} ہے، آیات کے فواصل (آخری حروف) کی موافقت کے لیے یاء حذف کر دی اور کسرہ یہ بتانے کے لیے باقی رکھا کہ یہاں یاء محذوف ہے، یعنی میرا انکار، میرا عذاب۔ انھوں نے میرے رسولوں کو جھٹلایا تو دیکھ لو اس پر میں نے انھیں کیسی سخت سزا دی اور کس طرح برباد کیا کہ ان کا نشان تک نہیں ملتا، تو ان بے چاروں کی کیا حیثیت ہے کہ یہ ہماری گرفت سے بچ سکیں گے۔