وَ کَذَّبَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ ۙ وَ مَا بَلَغُوۡا مِعۡشَارَ مَاۤ اٰتَیۡنٰہُمۡ فَکَذَّبُوۡا رُسُلِیۡ ۟ فَکَیۡفَ کَانَ نَکِیۡرِ ﴿٪۴۵﴾
اور ان لوگو ں نے (بھی) جھٹلایا جو ان سے پہلے تھے اور یہ اس کے دسویں حصے کو بھی نہیں پہنچے جو ہم نے انھیں دیا تھا، پس انھوں نے میرے رسولوں کو جھٹلایا تو میرا عذاب کیسا تھا؟
En
اور جو لوگ ان سے پہلے تھے انہوں نے تکذیب کی تھی اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا تھا یہ اس کے دسویں حصے کو بھی نہیں پہنچے تو انہوں نے میرے پیغمبروں کو جھٹلایا۔ سو میرا عذاب کیسا ہوا
En
اور ان سے پہلے کے لوگوں نے بھی ہماری باتوں کو جھٹلایا تھا اور انہیں ہم نے جو دے رکھا تھا یہ تو اس کے دسویں حصے کو بھی نہیں پہنچے، پس انہوں نے میرے رسولوں کو جھٹلایا، (پھر دیکھ کہ) میرا عذاب کیسا (سخت) تھا
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 45) ➊ {وَ كَذَّبَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ…: ” مِعْشَارَ “} اور {”عُشْرٌ“} دونوں کا معنی دسواں حصہ ہے۔ یعنی پہلی اقوام جو تباہ کی گئیں، انھیں جو قد و قامت، قوت و دولت اور شان و شوکت عطا کی گئی تھی ان عرب کے کافروں کے پاس تو اس کا دسواں حصہ بھی نہیں۔ دیکھیے سورۂ روم (۹)، مومن (۲۱) اور سورۂ احقاف (۲۶)۔
➋ { فَكَذَّبُوْا رُسُلِيْ فَكَيْفَ كَانَ نَكِيْرِ:” نَكِيْرِ “} اصل میں {”نَكِيْرِيْ“} ہے، آیات کے فواصل (آخری حروف) کی موافقت کے لیے یاء حذف کر دی اور کسرہ یہ بتانے کے لیے باقی رکھا کہ یہاں یاء محذوف ہے، یعنی میرا انکار، میرا عذاب۔ انھوں نے میرے رسولوں کو جھٹلایا تو دیکھ لو اس پر میں نے انھیں کیسی سخت سزا دی اور کس طرح برباد کیا کہ ان کا نشان تک نہیں ملتا، تو ان بے چاروں کی کیا حیثیت ہے کہ یہ ہماری گرفت سے بچ سکیں گے۔
➋ { فَكَذَّبُوْا رُسُلِيْ فَكَيْفَ كَانَ نَكِيْرِ:” نَكِيْرِ “} اصل میں {”نَكِيْرِيْ“} ہے، آیات کے فواصل (آخری حروف) کی موافقت کے لیے یاء حذف کر دی اور کسرہ یہ بتانے کے لیے باقی رکھا کہ یہاں یاء محذوف ہے، یعنی میرا انکار، میرا عذاب۔ انھوں نے میرے رسولوں کو جھٹلایا تو دیکھ لو اس پر میں نے انھیں کیسی سخت سزا دی اور کس طرح برباد کیا کہ ان کا نشان تک نہیں ملتا، تو ان بے چاروں کی کیا حیثیت ہے کہ یہ ہماری گرفت سے بچ سکیں گے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
45۔ 1 یہ کفار مکہ کو تنبیہ کی جا رہی ہے کہ تم نے جھٹلایا اور انکار کا راستہ اختیار کیا ہے، وہ نہایت خطرناک ہے تم سے پچھلی امتیں بھی اسی راستے پر چل کر تباہ ہوچکی ہیں۔ یہ امتیں مال ودولت، قوت وطاقت اور عمروں کے لحاظ سے تم سے بڑھ کر تھیں، تم ان کے دسویں حصے کو بھی نہیں پہنچتے لیکن اس کے باوجود وہ اللہ کے عذاب سے نہیں بچ سکیں، اسی مضمون کو سورة احقاف کی (وَلَقَدْ مَكَّنّٰهُمْ فِيْمَآ اِنْ مَّكَّنّٰكُمْ فِيْهِ وَجَعَلْنَا لَهُمْ سَمْعًا وَّاَبْصَارًا وَّاَفْـــِٕدَةً ڮ فَمَآ اَغْنٰى عَنْهُمْ سَمْعُهُمْ وَلَآ اَبْصَارُهُمْ وَلَآ اَفْــِٕدَتُهُمْ مِّنْ شَيْءٍ اِذْ كَانُوْا يَجْـحَدُوْنَ ۙبِاٰيٰتِ اللّٰهِ وَحَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ) 46۔ الاحقاف:26) میں بیان فرمایا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
45۔ جو لوگ ان سے پہلے گزر چکے ہیں انہوں نے (بھی حق کو) جھٹلایا تھا اور جو کچھ ہم نے انہیں دے رکھا تھا یہ لوگ تو اس کے عشر عشیر [69] کو بھی نہیں پہنچے۔ انہوں نے میرے رسولوں کو جھٹلایا تو دیکھ لو میری سزا کیسی (سخت) تھی۔
[69] یعنی اقوام سابقہ جو تباہ کی جا چکیں وہ ان قریش مکہ سے قدو قامت، ڈیل ڈول، قوت، مال و دولت اور عیش و فراوانی غرض ہر لحاظ سے بہت زیادہ تھیں۔ یہ قریش مکہ تو ان کے مقابلہ میں دسواں حصہ بھی نہیں۔ پھر جب ان اقوام نے ہمارے رسولوں کی تکذیب کی تو انہیں اس قوت اور سطوت کے باوجود تباہ و برباد کر کے رکھ دیا گیا۔ تو آخر یہ لوگ کس کھیت کی مولی ہیں جو ہماری گرفت سے بچ سکیں گے۔ تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے انہیں، ان سے پہلے انبیاء کی تکذیب کرنے والی قوموں کے انجام سے ڈراتے ہوئے فرمایا: ﴿وَؔكَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ۙ وَمَا بَلَغُوْا ﴾ ”اور جو لوگ ان سے پہلے گزرے تھے انھوں نے (حق کو) جھٹلایا تھا اور یہ لوگ نہیں پہنچے“ یعنی یہ مخاطبین نہیں پہنچتے ﴿مِعْشَارَ مَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ فَكَذَّبُوْا ﴾ ”اس سازو سامان کے عشر عشیر کو بھی جو ہم نے ان (پہلے لوگوں) کو عطا کیا تھا تو انھوں نے جھٹلایا“ یعنی ان سے پہلے امتوں نے ﴿رُسُلِیْ١۫ فَكَیْفَ كَانَ نَؔكِیْرِ ﴾ ”میرے رسولوں کو تو پھر میرا عذاب کیسا ہوا۔“ یعنی میری ان پر گرفت اور میرا ان پر عذاب کیسا تھا؟
ہم اس سے قبل بتا چکے ہیں کہ گزشتہ قوموں کو کیا کیا سزائیں دی گئیں ان میں سے کچھ قوموں کو سمندر میں غرق کر دیا، کچھ لوگوں کو سخت طوفانی ہوا کے ذریعے سے ہلاک کر ڈالا، کچھ قوموں کو ایک سخت چنگھاڑ کے ذریعے سے، کچھ کو زلزلے کے ذریعے سے ہلاک کیا اور کچھ قوموں کو زمین میں دھنسا دیا اور بعض قوموں پر ہم نے ہوا کے ذریعے سے آسمان سے پتھر برسائے۔ انبیاء و رسل کی تکذیب کرنے والے لوگو! تکذیب پر جمے رہنے سے بچو، ورنہ تم بھی اللہ تعالیٰ کی گرفت میں آجاؤ گے جیسے تم سے پہلے لوگ اللہ تعالیٰ کی گرفت میں آئے تھے اور تم پر بھی وہی عذاب نازل ہو جائے گا جیسے تم سے پہلی قوموں پر عذاب نازل ہوا تھا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم خوَّفَهم ما فَعَلَ بالأمم المكذبين قبلَهم، فقال: {وكَذَّبَ الذين من قبلِهِم وما بَلَغوا}؛ أي: ما بلغ هؤلاء المخاطَبون {معشارَ ما آتَيْناهم فكذَّبوا}؛ أي: الأمم الذين من قبلهم {رسلي فكيف كان نكيرِ}؛ أي: إنكاري عليهم وعقوبتي إيَّاهم، قد أَعْلَمَنَا ما فَعَلَ بهم من النَّكال، وأنَّ منهم من أغرقه، ومنهم من أهلكه بالريح العقيم وبالصيحة وبالرجفة وبالخسف بالأرض وبإرسال الحاصِبِ من السماء؛ فاحذَروا يا هؤلاءِ المكذِّبون أن تدوموا على التكذيبِ، فيأخُذَكُم كما أخَذَ مَنْ قبلَكم ويصيبُكم ما أصابَهم.