ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ سبأ (34) — آیت 43

وَ اِذَا تُتۡلٰی عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالُوۡا مَا ہٰذَاۤ اِلَّا رَجُلٌ یُّرِیۡدُ اَنۡ یَّصُدَّکُمۡ عَمَّا کَانَ یَعۡبُدُ اٰبَآؤُکُمۡ ۚ وَ قَالُوۡا مَا ہٰذَاۤ اِلَّاۤ اِفۡکٌ مُّفۡتَرًی ؕ وَ قَالَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لِلۡحَقِّ لَمَّا جَآءَہُمۡ ۙ اِنۡ ہٰذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّبِیۡنٌ ﴿۴۳﴾
اور جب ان پر ہماری واضح آیات پڑھی جاتی ہیں توکہتے ہیں یہ نہیں ہے مگر ایک آدمی، جو چاہتا ہے کہ تمھیں اس سے روک دے جس کی عبادت تمھارے باپ دادا کرتے تھے اورکہتے ہیں یہ نہیں ہے مگر ایک گھڑا ہوا جھوٹ۔ اور ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا، حق کے بارے میں کہا، جب وہ ان کے پاس آیا، یہ نہیں ہے مگر کھلا جادو۔ En
اور جب ان کو ہماری روشن آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کہتے ہیں یہ ایک (ایسا) شخص ہے جو چاہتا ہے کہ جن چیزوں کی تمہارے باپ دادا پرستش کیا کرتے تھے ان سے تم کو روک دے اور (یہ بھی) کہتے ہیں کہ یہ (قرآن) محض جھوٹ ہے (جو اپنی طرف سے) بنا لیا گیا ہے۔ اور کافروں کے پاس جب حق آیا تو اس کے بارے میں کہنے لگے کہ یہ تو صریح جادو ہے
En
اور جب ان کے سامنے ہماری صاف صاف آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو کہتے ہیں کہ یہ ایسا شخص ہے جو تمہیں تمہارے باپ دادا کے معبودوں سے روک دینا چاہتا ہے۔ (اس کے سوا کوئی بات نہیں)، اور کہتے ہیں کہ یہ تو گھڑا ہوا جھوٹ ہے اور حق ان کے پاس آچکا پھر بھی کافر یہی کہتے رہے کہ یہ تو کھلا ہوا جادو ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 43) ➊ { وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِمْ اٰيٰتُنَا …:} یہ ذکر کرنے کے بعد کہ قیامت کے دن مشرکین جہنم میں جائیں گے اور ان کے بنائے ہوئے معبود ان کے کچھ کام نہ آئیں گے، اب ان کے اس عذاب کا حق دار ہونے کی وجہ بیان فرمائی، جو یہ تھی کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یا اسلام کے کسی داعی نے ان کے سامنے ہماری واضح آیات پڑھیں تو انھوں نے وہ الفاظ کہے جو اس آیت میں ذکر ہوئے ہیں۔
➋ { قَالُوْا مَا هٰذَاۤ اِلَّا رَجُلٌ …:} یعنی یہ شخص تمھیں ان ہستیوں کی عبادت سے روکنا چاہتا ہے جن کی عبادت تمھارے آبا و اجداد مدت سے کرتے چلے آئے ہیں۔ مقصد ان کا لوگوں کو اسلام کی دعوت دینے والے کے خلاف بھڑکانا تھا، یہ کہہ کر کہ یہ شخص تمھیں تمھارے آباء کے دین سے روکنا چاہتا ہے، تو کیا تمھارے آبا و اجداد کوئی پاگل تھے جو ان کی عبادت کرتے تھے۔ پھر یہ نہیں کہ انھوں نے ایک آدھ دفعہ یہ کام کیا ہو، بلکہ{ كَانَ يَعْبُدُ اٰبَآؤُكُمْ } وہ مدت سے ان کی عبادت کرتے چلے آئے ہیں۔ گویا ان کے نزدیک ان کے شرک کے حق ہونے کی واحد دلیل آبا و اجداد کی تقلید تھی، جو سراسر جہل ہے، جس کا علم سے کوئی تعلق نہیں۔
➌ { وَ قَالُوْا مَا هٰذَاۤ اِلَّاۤ اِفْكٌ مُّفْتَرًى:} یہاں { هٰذَاۤ } سے مراد قرآن ہے۔ لفظ { اِفْكٌ مُّفْتَرًى } میں قرآن کے متعلق انھوں نے دو باتیں کہیں، ایک تو یہ کہ فی نفسہ یہ جھوٹ ہے، دوسری یہ کہ اسے گھڑ کر اللہ کے ذمے لگا دیا گیا ہے۔
➍ { وَ قَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لِلْحَقِّ …:} کفار کی پریشان گوئی دیکھیے کہ کبھی اسے جھوٹ کہتے ہیں اور کبھی اسے واضح جادو کہتے ہیں، اور یہ جو فرمایا کہ جب ان کے پاس حق آگیا تو انھوں نے اسے واضح جادو کہا، تو مراد اس سے یہ ہے کہ اگر انھیں حق کا علم نہ ہوتا اور وہ اس قسم کی باتیں کرتے تو شاید معذور ہوتے، اب حق واضح ہو جانے کے بعد انکار کی صورت میں جہنم کے سوا ان کا انجام کیا ہو سکتا ہے؟