تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { قَالُوْا مَا هٰذَاۤ اِلَّا رَجُلٌ …:} یعنی یہ شخص تمھیں ان ہستیوں کی عبادت سے روکنا چاہتا ہے جن کی عبادت تمھارے آبا و اجداد مدت سے کرتے چلے آئے ہیں۔ مقصد ان کا لوگوں کو اسلام کی دعوت دینے والے کے خلاف بھڑکانا تھا، یہ کہہ کر کہ یہ شخص تمھیں تمھارے آباء کے دین سے روکنا چاہتا ہے، تو کیا تمھارے آبا و اجداد کوئی پاگل تھے جو ان کی عبادت کرتے تھے۔ پھر یہ نہیں کہ انھوں نے ایک آدھ دفعہ یہ کام کیا ہو، بلکہ{” كَانَ يَعْبُدُ اٰبَآؤُكُمْ “} وہ مدت سے ان کی عبادت کرتے چلے آئے ہیں۔ گویا ان کے نزدیک ان کے شرک کے حق ہونے کی واحد دلیل آبا و اجداد کی تقلید تھی، جو سراسر جہل ہے، جس کا علم سے کوئی تعلق نہیں۔
➌ { وَ قَالُوْا مَا هٰذَاۤ اِلَّاۤ اِفْكٌ مُّفْتَرًى:} یہاں {” هٰذَاۤ “} سے مراد قرآن ہے۔ لفظ {” اِفْكٌ مُّفْتَرًى “} میں قرآن کے متعلق انھوں نے دو باتیں کہیں، ایک تو یہ کہ فی نفسہ یہ جھوٹ ہے، دوسری یہ کہ اسے گھڑ کر اللہ کے ذمے لگا دیا گیا ہے۔
➍ { وَ قَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لِلْحَقِّ …:} کفار کی پریشان گوئی دیکھیے کہ کبھی اسے جھوٹ کہتے ہیں اور کبھی اسے واضح جادو کہتے ہیں، اور یہ جو فرمایا کہ جب ان کے پاس حق آگیا تو انھوں نے اسے واضح جادو کہا، تو مراد اس سے یہ ہے کہ اگر انھیں حق کا علم نہ ہوتا اور وہ اس قسم کی باتیں کرتے تو شاید معذور ہوتے، اب حق واضح ہو جانے کے بعد انکار کی صورت میں جہنم کے سوا ان کا انجام کیا ہو سکتا ہے؟
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[67] اللہ کے کلام یا قرآن کریم کو کفار مکہ کا جادو کہنا اس لحاظ سے تھا کہ قرآن کی جادو اثر تاثیر سے وہ خود خائف رہتے تھے۔ انہوں نے مسلمانوں پر یہ پابندی بھی لگا رکھی تھی کہ وہ قرآن بلند آواز سے نہ پڑھا کریں کیونکہ اس طرح ان کے بیوی بچے قرآن سے متاثر ہو جاتے ہیں حالانکہ وہ کم بخت خود اس کی تاثیر سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکتے تھے۔ مگر محض ضد، ہٹ دھرمی، اور چند دنیوی مفادات کی خاطر قرآن اور دعوت قرآن کا انکار کرتے اور مذاق اڑاتے تھے۔ پھر وہ جادو سے یہ مطلب بھی لیتے تھے کہ جو شخص بھی ایمان لے آتا تھا۔ اسے پھر یہ پروا نہ رہتی تھی کہ فلاں شخص میرا باپ ہے یا بھائی ہے یا بیٹا ہے یا فلاں میری ماں ہے یا بیٹی ہے وغیرہ وغیرہ۔ اور مشرکین مکہ چونکہ ایسی جدائی ڈالنے کے لئے جادوگروں کی خدمات حاصل کیا کرتے تھے اور اس کلام سے بھی ایسی جدائی پڑ جاتی تھی۔ تو اس لحاظ سے بھی وہ قرآن کو جادو کہہ دیتے تھے۔ بالفاظ دیگر وہ قرآن کے منکر ہونے کے باوجود اس بات کے قائل تھے کہ قرآن اپنے اندر جادو سے بھی زیادہ تاثیر رکھتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
جیسے فرمایا «وَلَقَدْ مَكَّنّٰهُمْ فِيْمَآ اِنْ مَّكَّنّٰكُمْ فِيْهِ وَجَعَلْنَا لَهُمْ سَمْعًا وَّاَبْصَارًا وَّاَفْـــِٕدَةً» ۱؎ [46-الأحقاف:26] یعنی ’ ہم نے انہیں قوت و طاقت دے رکھی تھی۔ آنکھیں اور کان بھی رکھتے تھے دل بھی تھے لیکن میری آیتوں کے انکار پر جب عذاب آیا اس وقت کسی چیز نے کچھ فائدہ نہ دیا۔ اور جس کے ساتھ مذاق اڑاتے تھے اس نے انہیں گھیر لیا۔ ‘ کیا یہ لوگ زمین میں چل پھر کر اپنے سے پہلے لوگوں کا انجام نہیں دیکھتے جو ان سے تعداد میں زیادہ طاقت میں بڑھے ہوئے تھے۔
مطلب یہ ہے کہ رسولوں کے جھٹلانے کے باعث پیس دیئے گئے۔ جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیئے گئے۔ تم غور کر لو! دیکھ لو کہ میں نے کس طرح اپنے رسولوں کی نصرت کی اور کس طرح جھٹلانے والوں پر اپنا عذاب اتارا؟
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى عن حالةِ المشركين عندما تُتلى عليهم آياتُ اللَّه البيناتُ وحججُه الظاهراتُ وبراهينُه القاطعاتُ، الدالةُ على كل خير، الناهيةُ عن كلِّ شرٍّ، التي هي أعظمُ نعمةٍ جاءتهم ومنَّةٍ وصلتْ إليهم، الموجبة لمقابلتها بالإيمان والتصديق والانقياد والتسليم، أنَّهم يقابِلونَها بضدِّ ما ينبغي ويكذِّبونَ مَنْ جاءهم بها ويقولونَ: {ما هذا إلاَّ رجلٌ يريدُ أن يَصُدَّكُم عما كان يعبدُ آباؤُكم}؛ أي: هذا قصدُه حين يأمُرُكم بالإخلاص لله لتتركوا عوائدَ آبائِكُم الذين تعظِّمون وتمشون خلفَهم، فردُّوا الحقَّ بقول الضالِّين، ولم يوردوا برهاناً ولا شبهةً؛ فأيُّ شبهة إذا أمرتِ الرسلُ بعضَ الضالِّين باتِّباع الحقِّ فادَّعَوْا أنَّ إخوانهم الذين على طريقتهم لم يزالوا عليه؟! وهذه السفاهة وردُّ الحقِّ بأقوال الضالين إذا تأملتَ كلَّ حقٍّ رُدَّ؛ فإذا هذا مآلُه، لا يُرَدُّ إلاَّ بأقوال الضالِّين من المشركين والدَّهريين والفلاسفة والصابئين والملحدين في دين الله المارقين؛ فهم أسوةُ كلِّ من رَدَّ الحقَّ إلى يوم القيامةِ.
ولمَّا احتجُّوا بفعل آبائِهِم وجعلوها دافعةً لما جاءت به الرسل؛ طعنوا بعد هذا بالحقِّ، {وقالوا ما هذا إلا إفكٌ مفترىً}؛ أي: كذبٌ افتراه هذا الرجلُ الذي جاء به، {وقال الذينَ كفروا للحقِّ لمَّا جاءهم إنْ هذا إلاَّ سحرٌ مبينٌ}؛ أي: سحرٌ ظاهرٌ بيِّنٌ لكلِّ أحدٍ؛ تكذيباً بالحقِّ وترويجاً على السفهاء.